ناسا کے پرسیویرنس (Perseverance) روور نے مریخ کی تاریخ کے بارے میں ہماری سوچ بدل دی ہے۔ Jezero Crater میں کی گئی حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں پانی کی موجودگی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ تین مختلف ادوار پر مشتمل ایک پیچیدہ نظام تھا، جس نے اس سرخ سیارے پر قدیم زندگی کے امکانات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

جس جگہ کو پہلے صرف ریت اور مٹی کا ایک قدیم ساحل سمجھا جا رہا تھا، وہ دراصل زمین کی تاریخ کا ایک عظیم خزانہ ثابت ہوا ہے۔ ناسا کے روور نے اپنے جدید ترین آلے SuperCam کے ذریعے Jezero Crater کے 'مارجن یونٹ' (Margin Unit) میں 185 سے زائد مقامات کا معائنہ کیا، جس سے یہ انکشاف ہوا کہ یہ علاقہ آتش فشانی چٹانوں سے بنا ہے جو مریخ کی آبی سرگرمیوں کی داستان سناتے ہیں۔

مشن کا پس منظر: Jezero Crater کیا ہے؟

2021 میں جب پرسیویرنس روور مریخ پر اترا، تو اس کا مقصد ایک قدیم دریا کے ڈیلٹا (Delta) کی تلاش تھا۔ ڈیلٹا وہ جگہ ہوتی ہے جہاں دریا سمندر یا جھیل میں گرنے سے پہلے مٹی اور معدنیات جمع کرتا ہے۔ لیکن نئی تحقیقات بتاتی ہیں کہ مریخ پر صرف سطح پر پانی نہیں تھا، بلکہ زمین کے نیچے کیمیائی عمل اور آتش فشانی سرگرمیاں بھی جاری تھیں، جس نے اسے زندگی کے لیے موزوں بنایا۔

پانی کے تین مختلف ادوار: ایک ڈرامائی کہانی

Candice Bedford کی قیادت میں کی گئی ایک تحقیق، جو کہ Communications Earth & Environment میں شائع ہوئی ہے، کے مطابق اس علاقے میں پانی کے تین مختلف مراحل دیکھے گئے ہیں:

1. کاربونیٹ مرحلہ

CO₂ سے بھرپور زیرِ زمین پانی نے آتش فشانی چٹانوں (olivine) کے ساتھ ردِعمل کیا، جس سے چٹانوں کی دراڑوں میں کاربونیٹ کی تہیں بن گئیں۔

2. جھیل کا مرحلہ

پھر ایک دور آیا جب قدیم جھیل کے پانی نے براہِ راست چٹانوں پر اثر کیا، جس سے ان حصوں میں سلیکا (silica) کے ذخائر جمع ہو گئے۔

3. ہائیڈرو تھرمل مرحلہ

آخر میں گرم پانی کی گردش ہوئی جس نے فلورائٹ اور کیلشیم سلفیٹ کی رگیں بنائیں، جو کہ شدید حرارتی سرگرمی کی علامت ہیں۔

ٹیکنالوجی کی جھلک: SuperCam کیسے کام کرتا ہے؟
یہ آلہ ایک طاقتور لیزر کا استعمال کرتا ہے جو دور سے ہی چٹانوں کے چھوٹے حصوں کو بھاپ بنا دیتا ہے، جس کے بعد ان کے کیمیائی اجزاء کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ یہ کام 6.5 میٹر کے فاصلے سے کیا جا سکتا ہے، یعنی روور کو چٹان کو چھونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

کاربن کا راز اور زندگی کی تلاش

یہ دریافت 'ایسٹرو بائیولوجی' (Astrobiology - خلائی زندگی کا مطالعہ) کے لیے بہت اہم ہے۔ زمین پر، جب پانی اور olivine معدنیات ملتے ہیں تو ہائیڈروجن پیدا ہوتی ہے، جو کہ سخت ماحول میں رہنے والے خوردبینی جانداروں (microbes) کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے۔ اس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ مریخ کی گہرائیوں میں ایسی ہی زندگی موجود رہی ہوگی۔

آئندہ کیا ہوگا؟

ان نمونوں کا حتمی تجزیہ تب ہو سکتا ہے جب ناسا انہیں واپس زمین پر لائے گا۔ اگر وہاں قدیم زندگی کے آثار (bio-signatures) مل گئے، تو یہ ممکن ہے کہ مستقبل کے مشنز کا رخ بدل جائے اور ہم جھیلوں کے بجائے آتش فشانی علاقوں کی تلاش شروع کر دیں، کیونکہ شاید مریخ کی زندگی اس کے گرم دل میں چھپی ہو!