19/06/2026 19:21 - Economia
Gráfico financiero profesional con tendencia alcista del dólar, colores institucionales azul y verde, mostrando cifras de $1.461 y $1.480, con porcentajes de subida 2,3% y 3,8%, estilo infografía económica limpia
ارجنٹائن کے مالیاتی منظر نامے میں ایک اہم تبدیلی آئی ہے، جہاں سرکاری ڈالر نے جون 2026 میں اپنی رفتار تیز کر دی ہے۔ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب ادھورے بونس (aguinaldo) کی ادائیگیوں کی وجہ سے کمپنیوں اور افراد کی جانب سے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا۔
ایک غیر ملکی کے لیے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ارجنٹائن میں مہنگائی (inflación) ایک مستقل مسئلہ رہا ہے۔ تاہم، اس بار ڈالر کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کی شرح سے زیادہ تیزی سے ہوا ہے، جو ایک اہم معاشی تبدیلی ہے۔
تھوک بازار میں ڈالر نے $1,461 کی سطح کو چھوا، جو کہ 12 جنوری 2026 کے بعد سے اس کی بلندی کی سطح ہے۔
صرف ایک ہفتے میں، اس میں $33 (2.3%) کا اضافہ ہوا، جس نے پچھلے ہفتے کے زوال کو پلٹ دیا۔
ذرائع کے مطابق، یہ ڈالر اب بھی حکومت کی مقرر کردہ حد (banda cambiaria) سے 22.6 فیصد نیچے ہے، جو کہ ارجنٹائن کے مالیاتی نظام کا ایک حصہ ہے۔
سرکاری بینک، بینکو ناسیون (Banco Nación) میں ڈالر فروخت کے لیے $1,480 پر پہنچ گیا، جو کہ لگاتار چوتھا روز اضافہ ہے۔
بینکوں میں اوسطاً خرید و فروخت کا فرق کم ہے، جس سے عام شہریوں کے لیے ڈالر حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔
نیلا ڈالر (Dólar Blue) ارجنٹائن میں غیر رسمی بازار میں ڈالر کی شرح کو کہتے ہیں، جو اکثر سرکاری شرح سے زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم، اب یہ فرق تقریباً ختم ہو گیا ہے، جو کہ اقتصادی استحکام کی ایک بہت بڑی علامت ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اب شہری سرکاری بینکوں سے بھی تقریباً وہی شرح پر ڈالر خرید سکتے ہیں جو غیر قانونی بازار میں ہے، جس سے عوام کا اعتماد سرکاری نظام پر بڑھا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کی چند اہم وجوہات ہیں:
ارجنٹائن کا مرکزی بینک (BCRA) نے اپنے ذخائر بنانے کی رفتار کم کر دی ہے تاکہ ڈالر کی قیمت پر زیادہ دباؤ نہ پڑے۔
یہ ایک مثبت اقدام ہے، کیونکہ اس سے مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ ہلچل نہیں ہو گی اور قیمتوں میں استحکام آئے گا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ 2026 کے اختتام تک ڈالر کی قیمت $1,629 سے $1,658 کے درمیان ہو سکتی ہے۔
مہنگائی کی شرح 2.1 فیصد تک可控 ہے، جو کہ پچھلے سالوں کی نسبت بہت کم ہے۔
مختصر یہ کہ ارجنٹائن میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن یہ ایک منصوبہ بند معاشی اصلاح کا حصہ ہے۔ 'نیلا ڈالر' اور سرکاری ڈالر میں فرق ختم ہونا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ معیشت کی طرف سے مثبت اشارے مل رہے ہیں اور مستقبل کے لیے امید کی جا سکتی ہے۔
Alfredo S. Quiroga