24/06/2026 03:17 - Judiciales
ارجنٹین کی عدالت نے جوسے لیون سواریز کے فائرنگ واقعات کو جنہیں دنیا بھر میں روڈولفو والش کی کتاب آپریشن قتل عام (Operación Masacre) کے ذریعے جانا جاتا ہے، انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ واقعات کے 70 سال بعد آیا ہے اور ارجنٹینی عدالتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
یہ واقعات کب پیش آئے؟
یہ واقعات جون 1956 میں پیش آئے جب ایک گروہ شہریوں کو غیر قانونی طور پر جوسے لیون سواریز کے کچرا دانوں میں پھانسی دی گئی۔ یہ اس وقت ہوا جب پیڈرو یوجینیو ارامبورو کی فوجی حکومت نے بغاوت کے بعد کچلنے کی کارروائی کی تھی۔
ارجنٹین میں اس وقت انقلاب آزادی کاری (Revolución Libertadora) کے نام سے ایک فوجی حکومت تھی جس نے صدر جوآن پیروں کو ہٹایا تھا۔ اس حکومت نے بغاوت کرنے والے شہریوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
روڈولفو والش ایک مشہور ارجنٹینی صحافی اور مصنف تھے۔ انہوں نے ان واقعات کی تفتیش کی اور 1957 میں اپنی کتاب آپریشن قتل عام شائع کی۔ یہ کتاب لاطینی امریکہ میں نئی صحافت کی ابتدا سمجھی جاتی ہے۔
افسوسناک حقیقت: روڈولفو والش کو 1977 میں ارجنٹین کی آخری فوجی حکومت نے غائب کر دیا تھا اور وہ آج تک نہیں مل سکے۔
| پہلو | تفصیل |
|---|---|
| عدم سقوط زمانہ | یہ جریم کبھی نہیں بھول جاتے اور کسی بھی وقت ان کی تفتیش ہو سکتی ہے |
| معافی نہیں | ان جرائم کو معاف نہیں کیا جا سکتا |
| بین الاقوامی عدالت | ان جرائم کی سماعت بین الاقوامی عدالتوں میں بھی ہو سکتی ہے |
| ریاستی ذمہ داری | ریاست کو تفتیش، مقدمہ اور معاوضہ دینے کی ذمہ داری ہے |
ارجنٹین میں انسانیت کے خلاف جرائم کی تعریف زیادہ تر 1976-1983 کی فوجی حکومت کے جرائم کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ لیکن اس فیصلے سے 1956 کے جرائم کو بھی اس زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے ارجنٹین میں ریاستی تشدد کی تسلسل کو تسلیم کیا گیا ہے۔
یہ خبر ابتدائی طور پر El País نے 22 جون 2026 کو شائع کی تھی۔
خبر کا مآخذ: https://elpais.com/argentina/2026-06-22/la-justicia-argentina-declara-delitos-de-lesa-humanidad-los-fusilamientos-de-operacion-masacre-70-anos-despues.html
Alfredo S. Quiroga