02/07/2026 15:48 - Internacionales
02 جولائی 2026 کو شائع ہوا
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو کرسک علاقے میں اپنے جرائم کی قیمت چڑھانی پڑے گی، جو جنگی تنازعے کی نئی اور خطرناک شدت کے درمیان سامنے آیا ہے۔ یہ بیان ان دونوں ممالک کے درمیان زبردست فائرنگ کے تبادلے کے پس منظر میں آیا ہے، جس میں شہری ڈھانچے اور کلیدی توانائی وسائل دونوں کو نقصان پہنچا ہے۔
متعدد ذرائع کے مطابق، روس نے 02 جولائی 2026 کو کییف پر ایک بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔ نقصان یوکرینی دارالحکومت کے پانچ اضلاع میں رہائشی عمارتوں اور شہری ڈھانچے میں درج کیے گئے۔
یوکرینی صدر، ولودیمیر زیلنسکی، کو حملے کی شدت کے پیش نظر ڈبلن سے فوری طور پر واپس آنا پڑا۔ 01 جولائی کی بمباری نے بھی تباہی مچائی: خرکوف میں 6 ہلاک اور 50 زخمی (جن میں 15 سال کا ایک نوجوان بھی شامل ہے) ہوگئے، جبکہ اودیسہ میں بیلسٹک میزائلوں کے نتیجے میں 2 ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔ خرسون میں، ایک منی بس پر ڈرون حملے سے 2 افراد ہلاک ہوگئے، اور ایک انتظامی عمارت میں ایک اور شخص جاں بحق ہوگیا۔
دوسری طرف، یوکرین نے روسی ریفائنریوں پر حملوں کے ساتھ روسی علاقے پر دباؤ برقرار رکھا ہے، جس کی وجہ سے روس میں ایندھن کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اندازہ ہے کہ پٹرول کی پیداوار میں 25 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جو روزانہ 85,000 ٹن ہوگئی ہے جبکہ استعمال 110,000 ٹن روزانہ ہے۔
پوتن نے خود 28 جون 2026 کو قلت کا اعتراف کیا، اور روسی علاقوں میں 40 سے 78 تک پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ جون میں ماسکو، نزنیکامسک، تیومین اور وولگوگراد میں ریفائنریوں پر حملے کیے گئے۔ کریمیا، دوسری طرف، 26 جون سے ایمرجنسی کی حالت میں ہے۔
امن کے امکانات: بین الاقوامی ماہرین تجزیہ کر رہے ہیں کہ آیا روسی توانائی وسائل پر بڑھتی ہوئی دباؤ اور یوکرینی جوابی حملوں کے نتیجے میں بالآخر دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کیا جائے گا تاکہ تنازعے کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔
Alfredo S. Quiroga