20/07/2026 10:36 - Internacionales
گزشتہ ہفتے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جسے تجزیہ کار مکمل جنگ کے قریب قرار دے رہے ہیں۔ سی این این کے مطابق، اردن میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور عراق کے شمال میں ایک اور فوجی کے مارے جانے نے صورتحال کو انتہائی خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے جاری رہے تو تنازعے کو مزید بڑھایا جائے گا۔ دوسری جانب، ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای، اس سمندری گزرگاہ پر کنٹرول برقرار رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔
ایران کے اتحادیوں کی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ انفوبائی کے مطابق، یمن میں حوثیوں (ایران نواز باغی گروہ) نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں اس گروہ پر دباؤ ڈالا تاکہ بحیرہ احمر کے داخلی راستے باب المندب کو بند کر دیا جائے۔
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) خلیج عمان اور خلیج فارس کے درمیان ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کا ایک بڑا حصہ تیل کی تجارت ہوتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس راستے کی طویل بندش تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر سے زیادہ کر سکتی ہے، جو امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے پر مجبور کرے گی۔
تناؤ کے باوجود، اس تنازعے کا خاتمہ ایک نئے دور کے مذاکرات کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور قطر جیسے ممالک، جنہوں نے جون 2026 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ایک اجلاس میں ثالثی کی تھی، دوبارہ مداخلت کر سکتے ہیں۔ 10 جولائی کو تہران کے دورے کے بعد سے ان کا پروفائل کم ہے، تاہم بازاروں کے دباؤ اور امریکہ میں آنے والے انتخابات کی وجہ سے سفارتی کوششوں کی توقع ہے۔
کادینا 3 جیسی ذرائع حملوں کی شدت کی تصدیق کرتے ہیں، لیکن بین الاقوامی برادری کو اس بات کی امید ہے کہ صورتحال کنٹرول سے باہر ہونے سے پہلے سفارتکاری فوجی ٹکراؤ پر غالب آ جائے گی۔
Alfredo S. Quiroga