24/06/2026 22:29 - Tecnologia
میٹا نے پہننے کی ٹیکنالوجی کو عام کرنے میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے اپنی نئی ذہین عینکوں کے لانچ کے ساتھ۔ یہ ڈیوائس مصنوعی ذہانت کی جدید خصوصیات کو انتہائی مناسب قیمت کے ساتھ پیش کرتی ہے، جو پچھلی نسل کی عینکوں سے کہیں سستی ہے۔
جب آپ کسی دوسری زبان بولنے والے شخص سے بات کر رہے ہوں، یہ عینکیں فوری ترجمہ فراہم کرتی ہیں۔ آپ کو فون نکالنے یا ایپ کھولنے کی ضرورت نہیں - سب کچھ آپ کے کانوں میں براہِ راست سنائی دیتا ہے۔
مصنوعی ذہانت آپ کے آس پاس کی چیزیں پہچان سکتی ہے اور بیان کر سکتی ہے - ریستوران کا میون پڑھنا، اہم عمارتوں کی شناخت، یا آپ کو راستہ بتانا۔ بصری معذور افراد کے لیے یہ خاصی مددگار ہو سکتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ کہ میٹا نے ان عینکوں کی قیمت پچھلی نسل کے پروڈکٹس سے بہت کم رکھی ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے تاکہ عام صارفین بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
| صورت حال | فائدہ |
|---|---|
| غیر ملکی سفر | مقامی لوگوں سے بات چیت کا فوری ترجمہ، سائن بورڈ اور میون پڑھنا |
| کاروباری میٹنگز | بین الاقوامی کانفرنسوں میں مختلف زبانوں میں گفتگو کا ترجمہ |
| سیاحتی مکاتب | تاریخی مقامات اور عجائب گھروں کی معلومات ریئل ٹائم میں |
| بصری معاونت | مبصرین کے لیے ماحول کی تفصیلی وضاحت |
میٹا کا مقابلہ ایپل (Vision Pro)، گوگل اور سیمسنگ جیسی بڑی کمپنیوں سے ہے۔ لیکن میٹا کا نقطہ نظر عام صارف کی طرف ہے - عام نظر آنے والی عینکیں جو قیمت بھی مناسب ہوں۔
مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، عالمی اسمارٹ گلاسز کا بازار 2030 تک 30 بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
جیسا کہ کوئی بھی ڈیوائس جو آس پاس کی معلومات جمع کرتی ہے، پرائیویسی کے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ میٹا کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ڈیٹا لوکل پروسیس ہوگا، کم از کم کلاؤڈ میں بھیجنے کی ضرورت ہوگی۔ تاہم صارفین کو شرائط و ضوابط پر غور کرنا چاہیے۔
یہ معلومات گوگل نیوز اور کلارین کی رپورٹس پر مبنی ہے۔ عینکیں مختلف مارکیٹوں میں مختلف اوقات میں دستیاب ہوں گی۔ مقامی دستیابی کے لیے میٹا کی آفیشل ویب سائٹ دیکھیں۔
ذریعہ: گوگل نیوز / کلارین
Alfredo S. Quiroga