25/06/2026 23:07 - Internacionales
پاکستانی پولیس نے سلیوی یاسمینا نامی 54 سالہ فرانسیسی خاتون کو کامیابی سے بچایا، جو اپنے شوہر کی قید میں 12 سال گزارنے کے بعد آزاد ہوئی۔ یہ واقعہ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے بارا میں پیش آیا، جو افغانستان کی سرحد کے قریب ہے۔
آپریشن اس وقت انجام پایا جب اس کا ایک بیٹا گھر سے بھاگ کر مقامی تھانے پہنچا اور صورتحال کی اطلاع دی، جیسا کہ ضلعی پولیس چیف وقار احمد نے بتایا۔
گھریلو تشدد پاکستان میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق:
پولیس کی جانب سے ریکارڈ کیے گئے ویڈیو میں سلیوی یاسمینا نے انگریزی اور پشتو کے امتزاج میں بات کی:
میری مدد کرنے والے افسران کا شکریہ۔ میں فرانس واپس جانا چاہتی ہوں
اپنے ابتدائی بیان میں انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر کا انتہائی پرتشدد مزاج تھا اور قید کے دوران انہوں نے جسمانی اور ذہنی تشدد جھیلا۔
شبینہ ایاز، آرٹ فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر، نے یاسمینا کے ساتھ ہونے والے سلوک کی مذمت کی:
امید ہے کہ فرانسیسی سفارت خانہ اور پاکستانی حکام اس خاندان کو مکمل مدد فراہم کریں گے۔ یہ کیس حکام اور معاشرے کے لیے ایک بیداری کا پیغام ہونا چاہیے۔
| سال | واقعہ |
|---|---|
| 2014 | سلیوی یاسمینا پاکستان پہنچیں |
| 2014-2026 | مفروضہ قید اور تشدد کا دورانیہ |
| 22/06/2026 کا ہفتہ | بیٹوں میں سے ایک بھاگ کر پولیس پہنچا |
| 24/06/2026 | سرکاری آپریشن اور شوہر کی گرفتاری |
ماخذ: The Guardian
Alfredo S. Quiroga