08/07/2026 09:56 - Economia
امریکہ اور ایران کے درمیان مسلح تنازعہ، جو 28 فروری 2026 کو شروع ہوا تھا، اب انتہائی کشیدگی کے نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے جس پر 17 جون 2026 کو دستخط ہوئے تھے، جس سے عالمی بازاروں میں عدم یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
حال ہی میں ہونے والی کشیدگی میں ایران کا اسٹریٹجک آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملہ بھی شامل ہے، جس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی علاقوں میں 80 سے زیادہ اہداف پر بمباری کی اور تیل کی لائسنس منسوخ کر دی۔ اس کے علاوہ، ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر بھی حملے کیے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایرانی ڈرونز کے حالیہ حملوں نے تین جہازوں کو متاثر کیا، جس میں قطر کا ایک کنٹینر جہاز (الرکیت) اور سعودی عرب کا ایک تیل بردار جہاز شامل ہے۔ قطر نے ایران کو اس کی قانونی ذمہ داری کے بارے میں تنبیہ کی ہے، جبکہ سعودی عرب نے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ایران جہازوں کی آمدورفت اور حفاظت کے لیے فیس وصول کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ وہ فرانس اور برطانیہ کی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں مدد مسترد کر رہا ہے۔ عمان نے صورتحال کو حل کرنے کے لیے ایک نیا راہداری تجویز کی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ ہوا ہے، جو پہلے ہی سپلائی کے خدشات کی وجہ سے بڑھ رہی تھیں۔ امریکہ نے دوبارہ تیل کی پابندیاں عائد کر دی ہیں، 21 جون 2026 کی جنرل لائسنس X کو منسوخ کر کے اس کی جگہ X1 لائسنس نافذ کر دی ہے، جس سے ایرانی مارکیٹ تک رسائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔
ماخذ: Imago, Ámbito e Infobae
مکمل جنگ کے خدشات نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو گر دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے اشاریہ KOSPI نے سیمسنگ کے ریکارڈ نتائج کے باوجود نصف دن میں ہی مندی کا شکار ہو کر گر گیا۔ عالمی اسٹاکس بنیادی طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے کی آمدنی میں شک کی وجہ سے لڑکھڑا گئے، جس میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے جھٹکے نے مزید اضافہ کیا۔
ماخذ: Imago, Ámbito e Infobae
ٹرمپ نے ایرانی رہنماؤں کو 'کچرا' کہا ہے، لیکن ان کے مذاکرات کاروں کے لیے دروازہ کھلا رکھا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس امکان پر سرپس ہے کہ تنازعہ اس خطے سے بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، سرمایہ کار محفوظ اثاثوں میں پناہ لے رہے ہیں اور دنیا سفارتی کوششوں کا انتظار کر رہی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر توانائی اور معاشی بحران سے بچا جا سکے۔ امید ہے کہ حالات جلد بہتر ہوں گے اور امن کی بحالی ہوگی۔
Alfredo S. Quiroga