لا پلاتا (ارجنٹائن) کے علاقے ٹولوسا میں واقع الیکٹریکل سب اسٹیشن میں پیر 17 اگست 2026 کی صبح تقریباً 2:30 بجے لگنے والی زبردست آگ نے ہزاروں مکینوں کو بجلی سے محروم کردیا۔ یہ سب اسٹیشن گلی 528، کیمینو جنرل بیلگرانو اور گلی 9 کے درمیان واقع ہے، جہاں ایک ٹرانسفارمر کے پھٹنے سے آگ نے مزید شدت اختیار کرلی اور ملحقہ مکانات کے رہائشیوں کو احتیاطاً نکالنا پڑا۔
فائر بریگیڈ کی چار گاڑیوں اور سول ڈیفنس کے اہلکاروں نے آگ پر قابو پالیا، تاہم اس دوران سب اسٹیشن کی ایک سات میٹر اونچی دیوار گر گئی جو ایک رہائشی مکان سے ملتی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق، جب فائر بریگیڈ کا پانی ختم ہوگیا تو اہلکاروں کو ایک نجی سوئمنگ پول سے پانی لے کر آگ بجھانی پڑی۔
متاثرہ علاقے اور شہر میں افراتفری
یہ بجلی بندش لا پلاتا کے مرکزی شہری علاقے کے علاوہ ٹولوسا، رنگولیٹ، ولا کاسٹیلز، سان کارلوس، ہوزے ہرنینڈز اور گونیٹ جیسے مضافاتی علاقوں تک پھیلی۔ اینسیناڈا اور بیونس آئرس-لا پلاتا موٹر وے کے آخری 10 کلومیٹر بھی مکمل تاریکی میں ڈوب گئے، جس سے رات کے وقت ڈرائیوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک سگنلز بند ہوگئے، دکانوں کی سرگرمیاں معطل ہوگئیں اور کئی خاندانوں کو کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات محفوظ رکھنے میں دشواری پیش آئی۔ سوشل میڈیا پر شکایات کا سیلاب آگیا، جبکہ ایڈیلاپ کا کسٹمر سروس سسٹم بھی مکمل طور پر ناکارہ ہوگیا — واٹس ایپ نے جواب نہیں دیا، فون نمبرز تسلیم نہیں ہوئے اور آن لائن پورٹل پر "مینٹیننس" کا پیغام ظاہر ہورہا تھا۔
ایڈیلاپ کا بیان: صحت کے مراکز کو ترجیح
صبح 8:40 بجے کے قریب کمپنی ایڈیلاپ نے باضابطہ بیان جاری کیا جس میں تصدیق کی گئی کہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور نیٹ ورک کی بحالی کے لیے کام جاری ہے۔ کمپنی نے کہا کہ وہ ہسپتالوں، صحت کے مراکز اور دیگر اہم تنصیبات کو بجلی کی فراہمی کو ترجیح دے گی، اور متاثرہ علاقوں میں جنریٹرز اور تکنیکی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ "کمپنی متاثرہ رہائشیوں سے معذرت خواہ ہے اور اپنے سرکاری چینلز کے ذریعے پیش رفت سے آگاہ کرتی رہے گی"۔ تاہم، بجلی کی مکمل بحالی کا کوئی تخمینی وقت نہیں بتایا گیا، اور آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
پس منظر: ٹولوسا سب اسٹیشن کی اہمیت
ٹولوسا سب اسٹیشن اس خطے کی بجلی تقسیم کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ایڈیلاپ تقریباً 400,000 صارفین (تقریباً 10 لاکھ افراد) کو 5,700 مربع کلومیٹر کے رقبے میں بجلی فراہم کرتی ہے۔
اس واقعے نے بجلی کی تقسیم کے نظام میں سرمایہ کاری اور دیکھ بھال کی کمی پر تنقید کو پھر سے زندہ کردیا ہے۔ کچھ سیاسی و سماجی تنظیموں نے بجلی کمپنیوں کو قومیانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ صوبائی اور مقامی حکومتوں کی جانب سے ابھی تک کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تکنیکی ٹیمیں اب بھی جائے وقوعہ پر کام کر رہی ہیں، اور توقع ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔ یہ واقعہ حالیہ برسوں میں بیونس آئرس کے دارالحکومت میں بجلی کی سب سے بڑی بندشوں میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔