اسٹینیل ڈرکین ملر کا انوکھا اعتراف
25 اگست 2026 کو گارجین کو انٹرویو میں اسٹینیل ڈرکین ملر، جنہیں عالمی مالیاتی دنیا میں ایک لیجنڈری حیثیت حاصل ہے، نے بڑھیا خبر ی کی کہ انہوں نے وال اسٹریٹ جرمل میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں مصنوعی ذہانت (AI) استعمال کی۔ اس کالم میں انہوں نے امریکی ٹریکر سکریٹری سکاٹ بیسٹ پر سخت تنقید کی تھی۔
مذکورہ کالم انہوں نے وال اسٹریٹ جرل میں شائع کرایا تھا۔ ڈکین ملر نے اپنے نہین اعتزاف کو خوشی کا موقع بنایا: 'میں شرمندہ نہیں ہوں، 73 سال کی عمر میں مجھے اس کے استعمال پر فخر ہے۔' انہوں نے مزید کہا کہ 'یہ میرے خیالات ہیں جو میں 15 سال سے پیش کرو رہا ہوں، اور AI کا استعمال میری تحریر کو مزید واضح کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔'
کالم کا متنازعہ مواد
ڈرکین ملر کا یہ کالم ٹریژری کی سکٹ بیسٹ کی مداخلت کے خلاف تھا، خاص کر مارکیٹ بانڈز کی خریداری میں دوہرے پروگرام کے اور۔ انہوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ مدخلاتی نئی مہنگائی کی وجوہ پیدا کر سکتی ہے۔ ان کالک سے مینیٹری اور مالیاتی محاذوں پر مختلف کیہیں پیدا ہو گئیں۔
"یہ میرے خیال ہیں، جو میں 15 سال سے پیش کرتا آیا ہوں۔ میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ AI ایک طاقتور ٹول ہے، ہمیں اس کو استعمال کرتے ہوئے فکر مندی نہیں ہونی چاہیے۔" — اسٹینیل ڈی رکن ملر
ادارتی دنیا پر بحث
اس پر آواز اٹھنے والی سب سے بڑی بحث وال اسٹریٹ جرنل کے ایڈیٹر پال جیگٹ کی حمایت تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اخبار تحریر کے طریقہ کی جانچ نہیں کرتا بلکہ معیار پر توجہ دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'AI آج جدید زندگی کا حصہ ہے، اور ہمیں اس کا استقبال کرنا چاہیے۔'
لیکن یہ بات صرف اسٹریٹ تک محدود نہیں رہی۔ ایک ہفتہ قبل یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، برکلی کی پروفیسر زو زیلینا اسٹینکووا پر بھی یہ الزام لگا تھا کہ انہوں نے سان فرانسسکو اسٹینڈرڈ میں اپنے مضمون کی تدوین کے لیے استعمال کی تھی۔ ان کہ کہنا تھا کہ یہ 'انسانی انسانیات کا کام' ہے۔ نیویارک ٹائمز نے مارچ 2026 میں ایک فری لانس صحافی کو اس کے باعث پلگارزم (چوری) پر نکالتھیہا۔
آئی آئی کا ناوک عہد
ڈرکن ملر نےیہ بات ثابت کردی ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیک دنیا کا نہیں بلکہ ہر شعبے کا حصہ بن چکی ہے۔ ان کی کا موقف ہے کہ AI نہ صرف تحریر کا انداز بہتر کرتی ہے بلکہ اطلاعات کو منتخب کرنے اور سادہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ پھر بھی سوال یہ ہے کہ کیا اسے تحریر کی اصل کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کے بے تحاشا استعمال کی اجازت دی جائے؟
اسٹاک مارکیٹ پر اثر
اس خبر کے بعد کے بعد کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ، ڈرکین ملر کے موقف کے اثرات ی قلیل مدتی مارکیٹ پر ظاہر ہونے والی، کیونکہانہیں مارکیٹ کے بڑے اثر رکھنے والے سرمایہ کاروں میں مانا جاتا ہے۔ ان کا کہے بندوں میں، حکومتی بانڈ ی کے پروگرام کے بارے میںیہ ایک اہم موڑ ہے، جو آنے والے مہینوں میں سامنے آ سکتا ہے۔
خبر یہ ہے کہ یہ صرف ایک سرمای ہار کی سرگرمی نہیں بلکہ اسے دور کا ایک بڑا قدم ہے، جہاں انسانی سوچ اور مشن کے فیصلے کی مدد ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مستقبل میں، ہم یہ دیکھیں گے کہ کیسے یہ نیا اتحاد، معلومات کی ترسیل کو تبدیل کرتا ہے۔