ایک سپر میسیو بلیک ہول (Supermassive Black Hole) کی سرگرمیوں کا تصور کرنا اب تک صرف ریاضیاتی ماڈلز یا الگ الگ تصاویر تک محدود تھا۔ لیکن ڈاکٹر ماریانا فوسچی کی قیادت میں ایک ٹیم نے کائنات کے اس منظر کو ایک حقیقی وقت کی فلم میں بدل دیا ہے۔
پس منظر: VLBI کیا ہے؟
ان حیرت انگیز مناظر کو قید کرنے کے لیے ماہرین Very Long Baseline Interferometry (VLBI) کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہی تکنیک ہے جس کے ذریعے دنیا نے پہلی بار بلیک ہول کی تصویر دیکھی تھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ یہ تصویریں سالوں کے وقفے سے لی جاتی تھیں، جس کی وجہ سے ان کے درمیان کی حرکت کو سمجھنا مشکل تھا۔
Kine: تصویر اور ویڈیو کے درمیان کا پل
یہ تاریخی کامیابی، جو کہ نیچر (Nature) جریدے میں شائع ہوئی ہے، 1995 سے 2022 کے درمیان جمع کی گئی 116 مشاہدات پر مبنی ہے۔ اس کا اصل جادو 'Kine' نامی الگورتھم ہے جو نیورل نیٹ ورکس اور ڈیپ لرننگ (AI) پر کام کرتا ہے۔
بہتر ریزولوشن
روایتی طریقوں کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ واضح تصاویر۔
ڈائنامک رینج
انتہائی تیز روشنی والے حصوں میں بھی تفصیلات دیکھنے کی صلاحیت 100 گنا بڑھ گئی ہے۔
مسلسل بہاؤ
الگ الگ ڈیٹا کو ایک مسلسل ویڈیو میں تبدیل کرنے کی صلاحیت۔
بلیزر 3C 345 اور روشنی کی رفتار
مطالعے کا مرکز 3C 345 ہے، جو کہ ہرکیولس (Hercules) برج میں موجود ایک 'بلیزر' (Blazar) ہے۔ بلیزر ایک ایسا فعال گیلیکٹک مرکز ہوتا ہے جس کا پلازمہ جٹ (Jet) براہ راست زمین کی طرف رخ کر رہا ہوتا ہے۔ اس ویڈیو نے ایک حیران کن انکشاف کیا: پلازمہ کے چمکدار حصے تقریباً اسی رفتار سے سفر کر رہے ہیں جس رفتار سے مجموعی پلازمہ کا بہاؤ ہے، جو کہ پرانی تھیوریز کے برعکس ہے۔
مستقبل کی امیدیں
Kine جیسے الگورتھم کائنات کے عارضی مظاہر کے مشاہدے کو آسان بنا سکتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں خلائی مشنز اپنے پرانے ریکارڈز کو متحرک ویڈیوز میں بدل سکیں۔ اس ٹیکنالوجی سے شاید مقناطیسی میدانوں کے ارتقاء کی نگرانی ممکن ہو جائے، جس سے آئن سٹائن کے جنرل ریلیٹیویٹی تھیوری کی مزید تصدیق ہو سکے گی۔