ارجنٹائن کی معیشت کے لیے ایک خوش آئند خبر: چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں (PyMEs) کی برآمدات نے 13 سال کی بلند ترین سطح چھو لی ہے۔ وزیر معیشت ٹوٹو کاپوٹو نے جمعرات 13 اگست 2026 کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر یہ اعداد و شمار شیئر کیے، جو سب سیکرٹریٹ برائے چھوٹی و درمیانی کمپنیوں کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔
PyMEs کیا ہیں اور یہ کیوں اہم ہیں؟
ارجنٹائن میں PyMEs (چھوٹی اور درمیانی کمپنیاں) معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں: یہ 99 فیصد سے زیادہ کاروباری اداروں کی نمائندگی کرتی ہیں اور تقریباً 70 فیصد رجسٹرڈ روزگار فراہم کرتی ہیں۔ ان کی برآمدی کارکردگی زرمبادلہ کی آمدنی، روزگار کے مواقع اور علاقائی معیشتوں کی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
ایک ریکارڈ جو رجحان بدل سکتا ہے
کاپوٹو کی طرف سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار نہ صرف بحالی کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ حالیہ بحرانوں سے پہلے کی سطحوں سے بھی آگے ہیں۔ سالانہ 26 فیصد اضافہ چھوٹی کمپنیوں کی بین الاقوامی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی شمولیت کو ظاہر کرتا ہے، جس کی وجہ مسابقتی شرح مبادلہ، نئی منڈیوں کا کھلنا اور تجارتی فروغ کی کوششیں ہیں۔
اعداد و شمار کی تفصیل
- مدت: جنوری تا جولائی 2026
- کل برآمدات: 6.446 ارب ڈالر
- سالانہ اضافہ: +26%
- بہترین ریکارڈ: 13 سال میں
یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب ارجنٹائن کی حقیقی معیشت کی ترقی کے بارے میں توقعات ہیں۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ منڈیوں اور مصنوعات کا تنوع اس ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوگا۔ برآمد کرنے والی PyMEs میں خوراک اور مشروبات سے لے کر مشینری، سافٹ ویئر اور کیمیائی مصنوعات شامل ہیں، جن میں زرعی صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبے نمایاں ہیں۔
کاپوٹو، جو اکثر معاشی اشاریوں کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، نے اس کامیابی کو “تاجروں کی محنت اور سرکاری پالیسیوں کا نتیجہ” قرار دیا۔ انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں کہ کون سے شعبے یا علاقے سب سے زیادہ متحرک رہے، لیکن توقع ہے کہ سب سیکرٹریٹ آنے والے دنوں میں مکمل رپورٹ جاری کرے گی۔
یہ ریکارڈ 2026 میں ارجنٹائن کی معیشت کی دیگر مثبت علامات میں شامل ہے، جیسے افراط زر میں کمی اور اندرونی کھپت میں بحالی۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چیلنج یہ ہے کہ اس رفتار کو برقرار رکھا جائے اور PyMEs کو مالی اعانت اور ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو تاکہ وہ ترقی جاری رکھ سکیں۔
مزید معلومات کے لیے، آپ ٹوٹو کاپوٹو کا اصل ٹویٹ اور سب سیکرٹریٹ برائے چھوٹی و درمیانی کمپنیوں کی رپورٹ دیکھ سکتے ہیں۔