لگژری انڈسٹری اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اسے اپنی بقا کے لیے بنیادی تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ یہ کمی صرف عالمی سیاسی حالات کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ قیمتوں کی ایسی حکمت عملی ہے جس نے عام صارفین کو اس صنعت سے دور کر دیا ہے۔
پس منظر اور اہم تصورات
سال 2020 کے بعد سے، لگژری برانڈز نے 'ہائپر-ایکسکلوژیوٹی' (انتہائی مخصوص ہونے) کی پالیسی اپنائی، جس کا مقصد قیمتیں بڑھا کر برانڈ کی حیثیت کو بلند کرنا تھا۔ اس عمل میں "ایسپیریشنل کسٹمر" (Aspirational Customer) یعنی وہ متوسط طبقے کا شخص جو کبھی کبھار اپنی پسند کا مہنگا برانڈ خریدتا تھا، بالکل پیچھے رہ گیا۔ آج کی نئی نسل کے لیے یہ 'خصوصیت' اب ایک قدر نہیں بلکہ ایک 'رکاوٹ' بن چکی ہے۔
صارفین کا مسلسل خاتمہ
اعداد و شمار انتہائی پریشان کن ہیں: 6 کروڑ (60 ملین) صارفین نے اس سیکٹر کو چھوڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ مصنوعات کی حقیقی قیمت اور ان کی فروخت کی قیمت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق میں چھپا ہے۔
صارفین کا نقصان
-60M
2020 سے اب تکمتاثرہ طبقہ
متوسط طبقہ اور نوجوان
ایسپیریشنل صارفینبنیادی وجہ
قیمت بمقابلہ قدر
غیر متناسب اضافہمیلانو فیشن ویک اب اس بحث کا مرکز بن گیا ہے کہ بڑی کاروباری کمپنیوں (Conglomerates) پر انحصار کم کیا جائے۔ ان کمپنیوں نے منافع کو تو بڑھایا لیکن طویل مدتی وفاداری کو نظر انداز کر دیا۔
مستقبل کی پیش گوئیاں
اگر یہ رجحان تبدیل نہ ہوا تو عالمی آمدنی میں مزید گراوٹ آ سکتی ہے۔ برانڈز کو نوجوان نسل کو واپس لانے کے لیے قیمتوں کی نئی درجہ بندی کرنی پڑ سکتی ہے۔ امید ہے کہ ایک ایسی "شعوری لگژری" (Conscious Luxury) ابھرے گی جہاں صرف قیمت نہیں بلکہ پائیداری (Sustainability) اور اصلیت کو اہمیت دی جائے گی۔