مالیاتی خلاصہ (جون 2026)
کل مقدار
3.1 ملین بیرلز
سالانہ اضافہ
+520%
میکسیکو کی معیشت اس وقت ایندھن کی نگرانی کے حوالے سے ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ فرانسسکو بارنیس ڈی کاسترو، جو کہ انرجی سٹیزن آبزورویٹری (Observatorio Ciudadano de la Energía) کے رکن ہیں، کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران امریکہ سے آنے والے غیر قانونی ڈیزل کی لہر میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
'ہواچیکول فیسکل' (Huachicol Fiscal) کیا ہے؟
عام طور پر 'ہواچیکول' کا مطلب پائپ لائنوں سے ایندھن کی چوری ہوتا ہے، لیکن 'ہواچیکول فیسکل' ایک مختلف قسم کا مالیاتی جرم ہے۔ اس میں ایندھن کی درآمد کے لیے جعلی اجازت ناموں کا استعمال کیا جاتا ہے یا مصنوعات کی غلط declaration کی جاتی ہے تاکہ حکومت کو ادا کیے جانے والے ٹیکسوں (جیسے IEPS) سے بچا جا سکے۔ یہ عمل اس وقت تیز ہوتا ہے جب امریکہ اور میکسیکو کی مارکیٹوں میں ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا فرق ہوتا ہے، جس سے اسمگلرز کو منافع ہوتا ہے۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ جنوری 2026 کے مقابلے میں جون میں 520 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو سرحدی کنٹرول میں ایک بڑی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس غیر قانونی ایندھن کی آمد نہ صرف ریاست کے ٹیکسوں میں کمی کا باعث بنتی ہے، بلکہ ان پیٹرول پمپس کے لیے بھی غیر منصفانہ مقابلہ پیدا کرتی ہے جو قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
یہ تمام ایندھن بنیادی طور پر امریکہ سے آتا ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان موجود لاجسٹک ڈھانچے کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔
مستقبل کی پیش گوئیاں
اگر یہی رجحان جاری رہا تو سال کے اختتام تک ایندھن سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدنی میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔ امکان ہے کہ میکسیکو کی حکومت شمالی سرحدوں پر کسٹم کی نگرانی مزید سخت کر دے، جس کے نتیجے میں غیر قانونی سپلائی کم ہوگی اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، اگر امریکی ریفائنریوں سے غیر قانونی برآمدات کا سلسلہ سامنے آیا تو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تناؤ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
