امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا نیا باب
29 جولائی 2026 کو ایرانی انقلابی گارڈ (IRGC) نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے اچانک حملہ کیا، جس میں 5 میزائل شامل تھے۔ خوش قسمتی سے اردن کی فضائی دفاعی نظام نے انہیں روک لیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تازہ ترین باب ہے۔
ذرائع ابلاغ جیسے ٹی این اور امبیٹو کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری طور پر سخت ردعمل کا اعلان کیا اور ایران کو ’زبردست پٹائی‘ دینے کی دھمکی دی۔
ٹرمپ کا جواب اور مشترکہ کارروائی
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کو ’کینسر‘ قرار دیا اور کہا کہ انہیں ’زبردست پٹائی‘ دی جائے گی۔ امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کے مشرقی حصے میں ایرانی نواز ملیشیاؤں کے خلاف درست بمباری کی، جس میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔ گزشتہ 72 گھنٹوں میں 30 سے زیادہ ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا۔
مزید برآں، 30 جولائی 2026 کو امریکہ نے ایران پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا، جس میں آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے پر بمباری کی گئی۔ اس حملے میں 3 شہری ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ ان المناک واقعات کے باوجود، عالمی برادری امید کرتی ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں تاکہ مزید خونریزی سے بچا جا سکے۔
منڈیوں اور تیل پر اثرات
جنگی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو شدید متاثر کیا۔ برینٹ تیل کی قیمت 7 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس سے افراط زر کے خدشات پیدا ہو گئے۔ وال اسٹریٹ میں کمی آئی: ایس اینڈ پی 500 میں 1.5%، ڈاؤ جونز میں 2.2% اور نیس ڈیک میں 1.7% کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) نے شرح سود 3.50% سے 3.75% پر برقرار رکھی، جس نے بھی منڈیوں کو متاثر کیا۔
تہران کے دعوؤں کی تردید اور ہرمز کی ناکہ بندی
امریکی سینٹرل کمانڈ (Centcom) نے ایرانی میڈیا کے ان دعوؤں کی تردید کی کہ اردن میں F-35 جنگی طیارے تباہ ہو گئے اور تیل بردار جہاز M/T Nora نے بحری ناکہ بندی توڑ دی۔ انفو بائے کے مطابق، 20 سے زیادہ جنگی بحری جہاز آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں، جہاں سے پہلے عالمی خام تیل کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ یہ تنازع پانچ ماہ سے جاری ہے۔
ان چیلنجوں کے باوجود، اقوام عالم امن کے لیے سفارتی راستے تلاش کر رہی ہیں تاکہ خطے میں استحکام بحال ہو اور عالمی منڈیوں میں سکون آ سکے۔ یہ معلومات ایف ای اور مقامی ذرائع پر مبنی ہیں۔