8 اگست 2026
دنیا بھر میں جاسوسی کے شعبے کو پراسرار اور خاموش سمجھا جاتا ہے، لیکن اس خاموش دنیا میں بھی ایک نام سب سے اوپر ہے — برطانیہ کا خفیہ ادارہ MI6 (ملیٹری انٹیلیجنس سیکشن 6)۔ فرانسیسی میگزین L'Express کے ایک تازہ سروے کے مطابق، MI6 کو یورپ کا بہترین جاسوسی ادارہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ سروے اصل میں 29 جولائی 2026 کو شائع ہوا تھا اور اسے The Guardian نے 8 اگست 2026 کو نمایاں کیا۔
سروے کے نتائج: MI6 واضح برتری کے ساتھ پہلے نمبر پر
اس سروے میں 60 جاسوسی پیشہ ور افراد نے حصہ لیا، جن میں یورپ کے علاوہ امریکی ادارے CIA اور اسرائیلی ادارے موساد کے ارکان بھی شامل تھے۔ ہر ایک سے کہا گیا کہ وہ خفیہ طور پر اپنے پسندیدہ پانچ غیر ملکی جاسوسی اداروں کی درجہ بندی کریں۔ نتیجہ حیران کن تھا: MI6 کو 251 پوائنٹس ملے جبکہ دوسرے نمبر پر رہنے والے فرانس کے ادارے DGSE (ڈائریکشن جنرل آف ایکسٹرنل سیکیورٹی) کو صرف 169 پوائنٹس ملے۔ یہ فرق اتنا بڑا تھا کہ سروے کے منتظمین بھی حیران رہ گئے۔
L'Express کی ڈپٹی ڈائریکٹر الیگزینڈرا ساویانا نے کہا: "یہ پوائنٹس کا ایک بہت بڑا فرق ہے۔" انہوں نے مزید بتایا کہ سروے میں 17 موجودہ یا سابق سربراہانِ اداروں کی رائے شامل تھی۔
MI6 کو نمبر ون کس چیز نے بنایا؟
برطانوی ادارے کی کامیابی کا راز صرف جدید ٹیکنالوجی یا سیٹلائٹ نہیں بلکہ انسانی ذہانت (Human Intelligence) ہے۔ MI6 نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اعلیٰ سطح کے جاسوسوں کو بھرتی کرنے اور انہیں سنبھالنے کی صلاحیت ثابت کی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو بہت سے جدید اداروں کے پاس نہیں۔
ایک سابق فرانسیسی جاسوس نے L'Express کو بتایا: "برطانوی باشندوں کے پاس طویل المدتی کھیل کھیلنے کی صلاحیت ہے — وہ کسی ذریعے (Source) پر 10 سال تک سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، بالکل روسیوں کی طرح۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ MI6 کے پاس "خفیہ چالوں" کا بھی خاصا ہنر ہے۔
شہرت اور جیمز بانڈ کا اثر
جاسوسی کی دنیا میں شہرت ہی سب کچھ ہے۔ آپ کو اتحادی اور دشمن کس نظر سے دیکھتے ہیں، یہ آپ کی کامیابی کو متاثر کرتا ہے۔ MI6 کی شہرت سرد جنگ (Cold War) کے دور سے جڑی ہوئی ہے جب اس نے اولیگ گورڈیفسکی نامی KGB کے اعلیٰ افسر کو بھرتی کیا تھا۔ گورڈیفسکی نے بعد میں برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کو قائل کرنے میں مدد کی کہ وہ میخائل گورباچوف کو سنجیدگی سے لیں۔ 1985 میں جب ان کی شناخت ظاہر ہوئی تو انہیں خفیہ طور پر فن لینڈ منتقل کر دیا گیا۔
جاسوسی کی حقیقی دنیا پر مشہور فکشن کردار جیمز بانڈ کا بھی گہرا اثر ہے۔ The Rest is Classified پوڈکاسٹ کے شریک میزبان گورڈن کوریرا نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا: ایک نوجوان MI6 افسر جب دور دراز علاقے میں اپنے رابطے سے ملنے گیا تو اس انجان شخص نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا، "ہیلو، مسٹر بانڈ۔" یہ ایک مثال ہے کہ کس طرح جیمز بانڈ کی مقبولیت اصل جاسوسوں کے لیے بھی دروازے کھولتی ہے۔
نشيب و فراز اور اہم اتحاد
MI6 کو ناکامیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 2003 میں عراق جنگ سے پہلے اس پر الزام تھا کہ اس نے جھوٹے ثبوتوں کی بنیاد پر جنگ کی حمایت کی، یہاں تک کہ یہ دعویٰ کیا کہ صدام حسین برطانیہ پر 45 منٹ میں حملہ کر سکتے ہیں۔ تاہم، L'Express کے مطابق، MI6 نے فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے سے پہلے اپنی ساکھ بحال کر لی۔
| واقعہ | تاریخ | MI6 کا کردار |
|---|---|---|
| سرد جنگ | 1947-1991 | KGB کے اعلیٰ افسر کو بھرتی کیا |
| عراق جنگ | 2003 | غلط معلومات فراہم کیں |
| یوکرین پر روسی حملہ | فروری 2022 | CIA کے ساتھ مل کر درست پیش گوئی کی |
جہاں فرانسیسی اور جرمن خفیہ اداروں کو یقین نہیں تھا کہ روس واقعی حملہ کرے گا، وہیں MI6 نے CIA کے ساتھ مل کر بروقت اور درست انتباہ دیا۔ یہ قریبی تعلق "فائیو آئیز" (Five Eyes) اتحاد کا حصہ ہے، جس میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ ساویانا نے مذاق میں کہا: "باقی تمام ممالک یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ چھٹی آنکھ ہیں۔"
موجودہ سربراہ اور خاموش اطمینان
MI6 کے مرکزی دفتر واکسال، لندن میں موجودہ سربراہ بلیز میٹریویلی نے اس سروے پر کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا، لیکن اندرونی طور پر ایک خاموش اطمینان پایا جاتا ہے۔ جاسوسی کی دنیا میں شہرت ہی اصل سرمایہ ہے، اور اس وقت MI6 اس حوالے سے یورپ میں سب سے آگے ہے۔
نوٹ برائے قارئین
یہ خبر فرانسیسی میگزین L'Express کے سروے پر مبنی ہے جو 29 جولائی 2026 کو شائع ہوا۔ سروے میں شامل پیشہ ور افراد کی شناخت خفیہ رکھی گئی۔ برطانوی اخبار The Guardian نے اسے 8 اگست 2026 کو نمایاں کیا۔ تمام اعداد و شمار اور واقعات مذکورہ ذرائع سے لیے گئے ہیں۔