ریفارم یوکے نے غیر ملکی قیدیوں کو ایل سلواڈور کی جیلوں میں بھیجنے کا متنازع منصوبہ پیش کیا، جبکہ ایک ہی کشتی میں 230 تارکین وطن نے انگلش چینل عبور کیا۔ اینڈی برنہم کی مقبولیت کم ہے، اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس تجویز کی مذمت کی۔

🔴 برطانیہ میں غیر ملکی قیدیوں کو ایل سلواڈور بھیجنے کی تجویز

ریفارم یوکے کے رہنما نائجل فاراج اور شیڈو ہوم سیکرٹری ضیاء یوسف نے پیر 10 اگست 2026 کو ایک متنازع تجویز پیش کی: برطانیہ میں سزا یافتہ غیر ملکی قیدیوں کو وسطی امریکہ کے ملک ایل سلواڈور کی جیلوں میں بھیجنا۔

📋 تجویز کی تفصیلات

ضیاء یوسف نے رائل ہارس گارڈز ہوٹل میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اس منصوبے میں 22,000 جیل کی نئی نشستیں بنانے کا ہدف ہے، جس کے لیے دو حکمت عملی اپنائی جائیں گی: غیر ملکی مجرموں کو ایل سلواڈور بھیجنا اور نائٹنگیل جیلیں (عارضی، تیزی سے تعمیر ہونے والی سہولیات) تعمیر کرنا۔ یوسف نے کہا کہ ایل سلواڈور کی جیلیں 'مزے دار نہیں ہوں گی، لیکن ظالمانہ بھی نہیں ہوں گی'۔

ایل سلواڈور اپنے نظامِ جیلوں کی وجہ سے بین الاقوامی تنقید کا نشانہ رہا ہے، خاص طور پر صدر نائیب بوکیلے کی ہنگامی پالیسیوں کے بعد۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وہاں بڑے پیمانے پر من مانی گرفتاریاں، تشدد، جبری گمشدگیاں، طبی امداد سے انکار اور حراست میں اموات کی دستاویز کی ہیں۔

⚠️ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مذمت

ایمنسٹی انٹرنیشنل یوکے کے ریفیوجی اور مائیگرنٹ رائٹس ڈائریکٹر اسٹیو والڈیز-سیمنڈز نے اس تجویز کو 'ایسی پالیسی کی توسیع قرار دیا جو عملی، قانونی یا بنیادی انسانی شرافت سے بہت دور جا چکی ہے'۔

انہوں نے کہا: 'ریفارم برطانوی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ظلم کی مالی معاونت کرنا چاہتا ہے۔ بہت سے سیاست دان حقیقی قیادت سے قاصر ہیں، وہ نفرت، تشدد اور غیر انسانی رویے کو ہوا دیتے ہیں جو ہم سب کو کم محفوظ بناتا ہے'۔

🚢 انگلش چینل میں تارکین وطن کا ریکارڈ

اسی دوران، پیر 10 اگست 2026 کی صبح ایک ہی کشتی میں 230 افراد نے انگلش چینل عبور کیا، جو ایک ہی کشتی کے لیے تاریخی ریکارڈ ہے۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ نے ان تصاویر کو 'حیران کن' قرار دیا اور اسمگلنگ گروہوں کے 'بے رحم حربوں' پر زور دیا۔

حکومت نے بتایا کہ عام انتخابات کے بعد سے فرانس کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں سے 47,000 کراسنگ روکی گئی ہیں۔ کنزرویٹو شیڈو ہوم سیکرٹری کرس فلپ نے تنقید کی کہ فرانسیسی حکام 'آسانی سے اس کشتی کو روک سکتے تھے'۔

📊 آئی پیسوس سروے: لیبر کو برتری، برنہم کی مقبولیت کم

آئی پیسوس یوکے کے 10 اگست 2026 کو شائع ہونے والے سروے کے مطابق، لیبر پارٹی کو ریفارم یوکے پر 3 پوائنٹ کی برتری حاصل ہے، جو ایک سال سے زیادہ میں اس کا بہترین نتیجہ ہے۔ تاہم، اینڈی برنہم کی حکومت پر اطمینان 1979 کے بعد کسی نئے وزیر اعظم کے لیے سب سے کم ہے، صرف بورس جانسن (2019) اور رشی سنک (2022) اس سے کم ہیں۔

آئی پیسوس یوکے کے سینئر پالیسی ڈائریکٹر گیڈون سکنر نے کہا: 'اگرچہ برنہم ذاتی طور پر اپنے پیشرو سے زیادہ مقبول ہیں، لیکن ان کی پوزیشن کو جزوی طور پر شک کا فائدہ اور جزوی طور پر فیصلہ ابھی باقی سمجھا جا سکتا ہے'۔ انہوں نے مزید کہا کہ 10 میں سے 7 برطانوی شہری ملک کی سمت سے مطمئن نہیں ہیں۔

🔥 فاراج اور آتش زنی کی تحقیقات

فاراج نے پریس کانفرنس میں اپنے گھر پر مشتبہ آتش زنی کے حملے کی دوبارہ کھولی گئی تحقیقات کا حوالہ دیا، جس کا تعلق ان کے مطابق 78 سالہ سابق وزیر این وڈکومب کے قتل سے ہے۔ فاراج نے انسداد دہشت گردی پولیس پر 'غلطیاں' کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ وڈکومب کے قتل تک اس کیس کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

پولیس نے اس کیس کو دوبارہ کھولا جب ایک تحقیقاتی لائن سامنے آئی جو 'ممکنہ طور پر متعلقہ تھی' لیکن اس وقت اس کی چھان بین نہیں کی گئی۔ پولیس واچ ڈاگ سی ٹی پی لندن کے ایک عملے کے رویے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ فاراج نے حکام کے ساتھ 'اعتماد نہ توڑنے' کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

⚖️ پولانسکی قانون: تارکین وطن کی مدد کو جرم بنانا

ریفارم یوکے نے تصدیق کی کہ وہ ان خیراتی اداروں کو جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کرے گا جو غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے پناہ کے متلاشیوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس تجویز کو ضیاء یوسف نے 'پولانسکی قانون' کا نام دیا، جو گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی کے حوالے سے ہے، جو پناہ گزینوں کے حقوق کے محافظ ہیں۔ اس قانون کے تحت کسی بھی عمل پر دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے جو غیر قانونی داخلے میں سہولت یا حوصلہ افزائی کرے۔

یوسف نے خاص طور پر کیئر4کیلیس کا حوالہ دیا، جسے انہوں نے خیراتی ادارہ نہیں بلکہ 'غیر قانونی نقل مکانی کا سہولت کار' قرار دیا۔

🛑 پی سی اینڈریو ہارپر کیس اور جیلوں کا بحران

ڈاؤننگ اسٹریٹ نے پی سی اینڈریو ہارپر کے قاتلوں کو قبل از وقت رہائی سے خارج کرنے کے لیے اسکیم میں تبدیلی سے انکار کر دیا، احتجاج کے باوجود۔ ٹیمز ویلی پولیس فیڈریشن کی صدر آئلین او کونر نے اس فیصلے کو 'ناقابل دفاع' قرار دیا: 'اگر آپ پولیس افسر کو قتل کرتے ہیں تو قبل از وقت رہائی نہیں ہونی چاہیے۔ کوئی اگر، مگر نہیں'۔

تجزیہ کار ڈینی شا نے مشورہ دیا کہ حکومت ستمبر میں ہنگامی قانون سازی کے ذریعے رہائی کو روک سکتی ہے: 10 سال سے زائد قید کی سزا پانے والے قتل غیر ارادی کے مجرموں (تقریباً 220 افراد) کو خارج کرنا، اور 12 ماہ تک کی سزا پانے والوں (تقریباً 2,700 افراد) کو الیکٹرانک مانیٹرنگ کے ساتھ رہا کرنا۔

📰 دن کی دیگر خبریں

  • ٹیمز واٹر: ماحولیات کے محکمے نے ٹیمز واٹر کے چیف فنانشل آفیسر کو £1 ملین کی ادائیگی کو 'ناقابل قبول' قرار دیا، حالانکہ کمپنی حکومت کے زیر کنٹرول انتظامیہ کے دہانے پر ہے۔
  • سکاٹش گرینز: سکاٹش کنزرویٹوز نے MSP کیو مانیونن سے پارٹی وہپ واپس لینے کا مطالبہ کیا جب انہوں نے کہا کہ عصمت دری 'اسپیکٹرم' پر موجود ہے۔ سکاٹش ریپ کرائسس الائنس نے کھلے خط میں ان تبصروں کی مذمت کی۔
  • فاراج کا الیکشن پر موقف: انہوں نے کہا کہ 2027 میں انتخابات 'زیادہ ممکن' ہیں کیونکہ قرضوں کے بحران کا خطرہ ہے۔
  • جی بی نیوز: برطانوی میڈیا ریگولیٹر چینل کی تحقیقات کر رہا ہے جب ایک مہمان نے پرائیڈ مارچ کو حیوانیت اور بچوں سے جنسی تعلق سے جوڑا۔

ماخذ: دی گارڈین | 10 اگست 2026