تھائی لینڈ اور دنیا کو ہلا دینے والی ایک المناک واقعہ
7 اگست 2026 کو، ایک 14 سالہ نوجوان نے بینکاک کے شمال مغرب میں واقع نونتھابوری صوبے کے مشہور اسکول ڈیبسرین نونتھابوری میں تباہ کن حملہ کیا۔ حکام کے مطابق، نوجوان نے پہلے اپنے دادا دادی کو گھر میں قتل کیا، پھر اسکول گیا جہاں اس نے اپنے دادا کے ہتھیار سے فائرنگ کی۔ اس حملے میں عملے کے پانچ ارکان اور ایک 12 سالہ لڑکی ہلاک ہو گئیں، جو اگلے ہفتے ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔ 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے، اور حملہ آور نے آخر کار خودکشی کر لی۔
انگریزی کے استاد پرومپونگ نامونگ نے دی گارڈین کو بتایا کہ انہوں نے اپنے طلباء کو اندر بند کر دیا کیونکہ انہیں لگا کہ یہ آخری لمحہ ہے۔ حملہ آور نے کم از کم 26 گولیاں چلائیں اور 34 اضافی گولیاں ساتھ رکھی تھیں، جو اس واقعے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
اسلحہ کنٹرول کی فوری اور پرامید اقدامات
اس المناک واقعے کے جواب میں، 12 اگست 2026 کو تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتین چارن ویراکول نے آتش زیور اسلحہ رکھنے، خریدنے اور اٹھانے کے تمام لائسنس معطل کر دیے۔ یہ اقدام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ مزید سخت اسلحہ کنٹرول کا قانون نافذ نہیں ہوتا۔
حکومت شہریوں کو غیر قانونی یا وراثت میں ملنے والے ہتھیاروں کو بغیر کسی سزا کے جمع کرنے کے لیے معافی کا عرصہ بھی فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ، پولیس کے ہتھیاروں کی مزید سخت نگرانی کی جائے گی اور 'فلاحی اسلحہ' کے متنازعہ نظام کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے تحت حکام کو ہتھیار کم قیمت پر ملے تھے اور اکثر بعد میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جاتے تھے۔
پس منظر: تھائی لینڈ میں اسلحے کی ثقافت
تھائی لینڈ میں جنوب مشرقی ایشیا میں شہریوں کے پاس آتش زیور اسلحہ رکھنے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ سمال آرمز سروے 2017 کے مطابق، وہاں 10 ملین (ایک کروڑ) سے زائد شہری اسلحے موجود ہیں (ہر ساتویں شخص کے لیے ایک)، اور 4 ملین (40 لاکھ) غیر رجسٹرڈ ہیں۔
ملک نے حالیہ برسوں میں دیگر بڑے فائرنگ کے واقعات بھی دیکھے ہیں، جیسے 2022 میں شمال مشرق میں (37 ہلاکتوں، 22 بچوں سمیت) اور 2023 میں بینکاک کے ایک شاپنگ مال میں ایک اسی عمر کے نوجوان کا واقعہ۔ نئے اقدامات میں ذہنی صحت کا جائزہ شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو پچھلے لائسنس سسٹم میں ایک اہم پہلو تھا جو غائب تھا۔
شفایابی، سوگ اور ہمدردی کی اپیل
جبکہ ملک ابھی اس صدمے سے گزر رہا ہے، تیم رک سمکھی مندر میں کئی دنوں کے بدھست جنازے ادا کیے گئے۔ دادا دادی اور نوجوان کے تابوتوں کو جلا دیا گیا۔ متاثرین میں سے ایک کے رشتہ دار تاوی پیوپونگ نے نوجوان کی یاد کے نامے میں ایک گہرائی سے ہمدردانہ پیغام دیا: 'میں اسے یہ کہنا چاہوں گا کہ 14 سال کی عمر آپ کی زندگی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے، اور ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے۔ یہ دنیا کا اختتام نہیں ہے'۔
محکمہ تعلیم نے اسکول کی حفاظت کا ایک نیا منصوبہannounce کیا ہے جس میں داخلے کے سخت فلٹر اور نفسیاتی مشاورت تک بہتر رسائی شامل ہے۔ یہ تحقیقات ہو رہی ہیں کہ حملہ آور ذہنی دباؤ کا شکار تھا، آن لائن پرتشدد ویڈیوز دیکھتا تھا اور اسکول میں ہراسانی کا نشانہ بنتا تھا، جو اسکولوں میں ذہنی صحت کے مسائل کو حل کرنے کی فوری ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔ برادری، دکھ میں متحد، اس امید کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کہ یہ نئی پالیسیاں مستقبل میں جانیں بچائیں گی۔
ذرائع: دی گارڈین