لندن میں روسی سفارت خانے نے برطانیہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ یوکرین کے روسی سرزمین پر حملوں میں 'شریک اور شریک مصنف' ہے، جب یہ انکشاف ہوا کہ کیف نے برطانوی ساختہ ڈرون استعمال کیے ہیں۔ یہ انتباہ ماسکو اور مغرب کے درمیان کشیدگی کو بڑھاتا ہے، ایک ایسے تنازع میں جو چار سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔

ماسکو کی طرف سے براہ راست انتباہ

پیر 17 اگست 2026 کو، لندن میں روسی سفارت خانے نے ایک سخت بیان جاری کیا: برطانیہ کو یوکرین کے روسی سرزمین پر فوجی اور صنعتی اہداف کے خلاف حملوں میں برطانوی ساختہ ڈرون استعمال کرنے پر 'نتائج' کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب اخبار سنڈے ٹائمز نے انکشاف کیا کہ کیف نے دو برطانوی کمپنیوں کے تیار کردہ آلات استعمال کیے، جن میں سے ایک دفاعی کمپنی BAE Systems کی ذیلی کمپنی ہے۔

بیان میں، روسی سفارتی مشن نے لندن پر 'شریک اور شریک مصنف' ہونے اور 'جان بوجھ کر کشیدگی بڑھانے' کا الزام لگایا۔ سفارت خانے نے کہا: 'لندن کے اقدامات کے ناگزیر نتائج ہوں گے جن کا اسے حساب دینا ہوگا'، اور مزید کہا: 'وہ جتنا گہرائی سے تنازع میں ملوث ہوگا اور کیف کی دہشت گرد مشینری کی جتنی زیادہ حمایت کرے گا، اسے اتنی ہی زیادہ قیمت چکانی پڑے گی'۔

یوکرین کے لیے برطانوی حمایت کے اعداد و شمار

برطانیہ فروری 2022 میں روس کے بڑے پیمانے پر حملے کے آغاز سے ہی یوکرین کے اہم اتحادیوں میں شامل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، لندن نے کیف کو تقریباً 25 بلین پاؤنڈ (33 بلین ڈالر) کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے، جس میں سے 16 بلین پاؤنڈ فوجی امداد ہیں۔

برطانوی وزارت دفاع نے سنڈے ٹائمز کی اشاعت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

دونوں محاذوں پر کشیدگی جاری

روسی انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب دونوں طرف سے حملے تیز ہو رہے ہیں۔ یوکرین نے روسی سرزمین پر طویل فاصلے تک حملوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ ماسکو نے کیف اور دیگر علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں۔

یوکرین کی سرکاری کمپنی Naftogaz نے بتایا کہ اس کی تنصیبات پر روس نے پچھلے ہفتے 13 بار حملہ کیا اور اس سال اب تک تقریباً 300 حملے ہو چکے ہیں۔ DTEK گروپ کی ایک کان پر حملے میں ایک 52 سالہ کارکن ہلاک ہو گیا۔

ایک تنازع جو ختم نہیں ہو رہا

یہ جنگ، جو فروری 2022 میں شروع ہوئی، ہزاروں متاثرین اور ایک انسانی بحران کا سبب بنی ہے۔ حالیہ دنوں میں، یوکرین نے روس کے خلاف سینکڑوں ڈرون کے ساتھ ایک بڑا حملہ کیا، جس میں ماسکو نے 822 ڈرون مار گرائے، جن میں سے 600 دارالحکومت کی طرف تھے۔ روس میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے، اور پوڈولسک میں Wildberries کمپنی کا 250,000 مربع میٹر کا گودام جل گیا۔

روس نے کیف، کریوی رہ، سومی اور زاپوریزیا پر میزائل حملوں کا جواب دیا، جس سے مزید جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ پچھلے ہفتے روس نے 1,550 ڈرون، 1,560 گائیڈڈ بم اور 62 میزائل داغے۔

روس کی برطانیہ کو دھمکی اس تصادم کا ایک نیا باب ہے، جس کے نیٹو اور عالمی جغرافیائی توازن پر ممکنہ اثرات ہیں۔ اس دوران، بین الاقوامی برادری تشویش کے ساتھ دیکھ رہی ہے کہ یہ تنازع یوکرین کی سرحدوں سے باہر کیسے پھیل رہا ہے۔