ہمالیہ میں ایک بے مثال تباہی
بدھ 26 اگست 2026 کو نیپال اور تبت (چین) کی سرحد پر واقع علاقے میں ایک شدید سیلاب آیا، جس نے دریائے ترشولی کے کنارے آباد نیپال کے اضلاع نوواکوٹ اور راسووا اور تبت کے گیریونگ علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ تباہی ایک گلیشیر جھیل کے ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کی وجہ سے آئی، جس کے نتیجے میں نیپال میں کم از کم 160 افراد اور تبت میں 3 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 1000 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
ابتدائی طور پر زلزلہ پیما آلات نے ایک ایسا واقعہ ریکارڈ کیا جو 4.4 شدت کے زلزلے جیسا لگ رہا تھا، لیکن بعد میں اسے 5.2 میں تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم، امریکی ارضیاتی سروے (USGS) نے تصدیق کی کہ یہ زلزلہ نہیں تھا، بلکہ ایک گلیشیر کے ٹوٹنے کا واقعہ تھا جس نے پانی اور کیچڑ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ چھوڑا اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کر دیا۔
متاثرین اور لاپتہ افراد کی سرکاری تعداد
| ملک | ہلاکتیں | لاپتہ افراد |
|---|---|---|
| نیپال | 160 (157 لاشیں برآمد) | 468 سیاح اور مسافر (393 غیر ملکی، 75 نیپالی) |
| تبت (چین) | 3 | 558 (جن میں 260 غیر ملکی شامل ہیں) |
نیپال کے محکمہ سیاحت کے مطابق، لاپتہ افراد کی ابتدائی تعداد 403 سیاح (341 غیر ملکی) تھی، لیکن بعد میں اسے بڑھا کر 468 کر دیا گیا۔ نیپال میں لاپتہ افراد میں 142 ہندوستانی، 47 امریکی، 34 آسٹریلوی، 33 برطانوی، 24 کینیڈین اور 9 جنوبی کوریائی شامل ہیں، اس کے علاوہ نیدرلینڈز، ملائیشیا، پرتگال اور جنوبی افریقہ کے شہری بھی لاپتہ ہیں۔
ریسکیو آپریشن اور انسانی امداد
تبت کی حکومت نے تقریباً 800 امدادی کارکنوں، 150 گاڑیوں، تلاش کرنے والے کتوں اور تیز رفتار کشتیوں کو متحرک کیا ہے، جیسا کہ سرکاری خبر رساں ایجنسی شِنہوا نے بتایا۔ دوسری طرف، نیپالی فوج نے تلاش اور ریسکیو آپریشنز کے لیے ہیلی کاپٹر روانہ کیے ہیں۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (IFRC) نے کمبل، ابتدائی طبی امداد کے کٹس، اسٹریچر اور لاشوں کے لیے بیگ بھیجے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے متاثرین کی مدد کے لیے امدادی سامان اور عملہ فراہم کیا ہے۔
چینی رہنما شی جن پنگ نے لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔
دلخراش واقعات اور املاک کو پہنچنے والا نقصان
ایک زندہ بچ جانے والے، کیشو پرساد بارل، 68 سال، نے اس سیلاب میں اپنی بیوی کو کھو دیا۔ ایک اور پڑوسی نے آم کے درخت سے چمٹ کر معجزانہ طور پر جان بچائی۔ آئی ایف آر سی کے مطابق، پورے گاؤں اور بازار "مٹ گئے" ہیں، اور سڑکیں، مکانات، سرحدی گزرگاہیں، گاڑیاں اور توانائی کے منصوبے تباہ ہو گئے ہیں۔
لاپتہ افراد میں 15 آسٹریلوی افراد کا ایک گروپ بھی شامل ہے جو ہمالیئن گلیشیر ٹریکنگ کمپنی کے ساتھ ٹریکنگ کر رہے تھے، جن میں نیو ساؤتھ ویلز کے دو خاندان شامل ہیں، جن کی عمریں 11 سے 64 سال کے درمیان ہیں۔ نیپال کے 28 پولیس افسران کی بھی لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔
ممکنہ دوسرے سیلاب کا خطرہ اور موسمیاتی تبدیلی کا تناظر
ماہرین نے دریا کے اوپری حصے میں رکاوٹ کی وجہ سے پانی کے ممکنہ دوسرے بہاؤ کے بارے میں خبردار کیا ہے، جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہمالیہ کے علاقے میں انتہائی موسمی واقعات کی تعدد اور شدت کو بڑھا رہی ہے، جہاں گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اس المیے کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرین کی مدد کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔
ماخذ: دی گارڈین، 27 اگست 2026 کو اپ ڈیٹ کیا گیا۔