اتوار کے روز بحیرہ روم میں ایک مسافر فیری الٹ کر ڈوب گئی، جس میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 20 سے زائد لاپتہ ہیں۔ یہ فیری شمالی قبرص کے شہر کیرینیا سے ترکی کے شہر تاشوچو جا رہی تھی۔ حکام حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ امدادی ٹیمیں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایک پرسکون اتوار کی صبح بحیرہ روم میں ایک المناک حادثے میں تبدیل ہو گئی جب فیری فیلو ڈینیزجیلک (Filo Denizcilik) شمالی قبرص کے ساحل سے تقریباً 7.5 کلومیٹر دور الٹ گئی اور مکمل طور پر ڈوب گئی۔ یہ حادثہ 30 اگست 2026 کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10:30 بجے (07:30 GMT) پیش آیا۔

یہ کیٹاماران قسم کی فیری شہر کیرینیا (جسے گرنے بھی کہا جاتا ہے) کی بندرگاہ سے ترکی کے شہر تاشوچو کے لیے روانہ ہوئی تھی اور اس میں تقریباً 270 افراد سوار تھے۔ شمالی قبرص کے وزیر اعظم اونال استیل نے تصدیق کی کہ جہاز پر 267 مسافر سوار تھے۔

قبرص کی تاریخ کا بدترین جہازی حادثہ

مقامی حکام نے اس واقعے کو قبرص کی تاریخ کا بدترین جہازی حادثہ قرار دیا ہے۔ کیرینیا کے میئر مرات سینکول نے اسے انتہائی سنگین قرار دیا۔ اب تک کم از کم 8 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم ایک مقامی رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 9 یا 10 تک پہنچ سکتی ہے۔ مزید برآں، 18 سے 23 افراد لاپتہ ہیں۔

امدادی ٹیموں نے، جن میں ترک قبرصی اور ترکی کے کوسٹ گارڈز، ہیلی کاپٹر اور ایک سویلین جہاز شامل تھے، 237 افراد کو بچا لیا۔ ان میں سے 161 کو ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ 76 افراد اپنے اہل خانہ سے مل گئے۔ تین بچوں کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق وہ خطرے سے باہر ہیں۔

زندہ بچ جانے والوں کی شہادتیں: دھماکہ اور افراتفری

زندہ بچ جانے والوں کی شہادتیں خوفناک منظر پیش کرتی ہیں۔ کئی مسافروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے فیری کے اگلے حصے میں دھماکے کی آواز سنی اس سے پہلے کہ جہاز الٹنا شروع ہوا۔ دوسروں نے بتایا کہ جہاز بے قابو ہو کر لہروں سے ٹکرا رہا تھا اور اچانک اس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا جس سے پانی اندر داخل ہو گیا۔

سب سے اہم شہادت یہ ہے کہ کیپٹن نے انخلاء کو منظم کیے بغیر سب سے پہلے جہاز چھوڑ دیا، جس سے صورتحال مزید خراب ہوئی۔ یہ واقعہ، ممکنہ دھماکے کے ساتھ، سرکاری تحقیقات کا مرکزی نقطہ ہے۔

گرفتاریاں اور شفافیت کا وعدہ

ایک اہم پیش رفت میں، حکام نے کیپٹن اور عملے کے دیگر سات ارکان کو تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لے لیا ہے۔ وزیر اعظم استیل نے وعدہ کیا کہ کسی قسم کی پردہ پوشی نہیں کی جائے گی اور تمام ذمہ داریاں طے کی جائیں گی۔

فیری کی آپریٹنگ کمپنی فیلو ڈینیزجیلک نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور حکام کے ساتھ تعاون اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے کرائسس مینجمنٹ ٹیم تشکیل دی ہے۔

خراب موسم: ایک اہم عنصر

موسمی حالات نے اس حادثے میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔ اس علاقے میں حادثے سے 48 گھنٹے پہلے طوفان آیا تھا، جس کی وجہ سے سمندر میں لہریں بلند تھیں اور نیویگیشن کے لیے خطرناک حالات تھے۔ تاہم، تفتیش کاروں نے کسی بھی امکان کو مسترد نہیں کیا، بشمول مکینیکل خرابی یا تخریب کاری۔

سیاق و سباق: شمالی قبرص کا ترک جمہوریہ

شمالی قبرص کا ترک جمہوریہ ایک خود ساختہ ریاست ہے جو قبرص کے شمالی تیسرے حصے پر مشتمل ہے اور اسے صرف ترکی تسلیم کرتا ہے۔ بین الاقوامی برادری، بشمول اقوام متحدہ، پورے قبرص کو جمہوریہ قبرص کا حصہ مانتی ہے، جو یورپی یونین کا رکن ہے۔ اس سیاسی صورتحال نے خطے میں تاریخی کشیدگی پیدا کی ہے، لیکن اتوار کے اس حادثے نے تمام فریقین کو متاثرین کے ساتھ یکجہتی کے لیے متحد کر دیا ہے۔

ریسکیو آپریشن اور اگلے اقدامات

لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے، اور ٹیمیں ڈوبی ہوئی فیری کے مقام پر کام کر رہی ہیں، جو 514 میٹر کی گہرائی میں ہے۔ گہرائی اور سمندر کی حالت کی وجہ سے ریسکیو کے کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، لیکن حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے۔

دریں اثنا، بین الاقوامی برادری نے تعزیت اور مدد کی پیشکش کی ہے۔ جمہوریہ قبرص نے سیاسی تقسیم کے باوجود متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کیا اور انسانی امداد کی پیشکش کی۔

یہ المناک واقعہ، جس نے پورے خطے کو غمزدہ کر دیا ہے، سمندر میں زندگی کی نزاکت اور مسافر جہازوں میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ تحقیقات سے حادثے کی اصل وجوہات اور ذمہ داریوں کا تعین ہو گا، لیکن اس وقت اولین ترجیح لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں کی مدد ہے۔