نیپال اور تبت کی سرحد پر گلیشیئر کے گرنے سے آنے والے سیلاب اور مٹی کے تودوں نے تباہی مچا دی ہے۔ نیپال کے مطابق 900 سے زائد اموات ہوئیں جبکہ چین نے 16 اموات اور 546 لاپتہ افراد کی اطلاع دی ہے۔ تنظیموں کا الزام ہے کہ سرکاری اعداد و شمار اس سانحے کی اصل حقیقت کو چھپاتے ہیں۔

26 اگست 2026 کو ہمالیہ کے علاقے میں ایک بڑا قدرتی سانحہ پیش آیا، جب گلیشیئر کے گرنے سے نیپال اور تبت کی سرحد پر اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے آئے۔ چینی حکام نے 16 اموات اور 546 لاپتہ افراد (جن میں 261 غیر ملکی شامل ہیں) کی اطلاع دی ہے، جبکہ نیپال کی طرف سے 900 سے زائد اموات اور 4,000 سے زائد لاپتہ افراد کی اطلاع دی گئی ہے، جس سے بیجنگ کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

انٹرنیشنل کیمپین فار تبت (آئی سی ٹی) نے الزام لگایا ہے کہ تبت کی سرحد پر کم از کم 300 مکانات تباہ ہوئے ہیں اور لاپتہ افراد کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ آئی سی ٹی کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ گاؤں سیلے، سرچنگ، لابی اور رزی ہیں، جو انتہائی حساس ارضیاتی علاقے میں واقع ہیں۔

چین میں پابندیاں اور سنسرشپ

30 اگست کو چینی حکام نے اعلان کیا کہ کم از کم 10 افراد کو سوشل میڈیا پر 'جھوٹی معلومات' پھیلانے پر سزا دی گئی ہے۔ ان میں دو تبتین کو سرحد کے قریب 1,000 سے زائد لاپتہ افراد کی 'افواہیں' پھیلانے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو سرکاری موقف پر سوال اٹھانے والوں کو خاموش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

زندہ بچ جانے والوں کو متاثرہ سرحدی گزرگاہ سے تقریباً 30 کلومیٹر دور گیرونگ منتقل کیا گیا ہے، جہاں وہ سخت انتظام کے تحت ہیں اور انہیں باہر سے آزادانہ رابطے کی اجازت نہیں ہے۔ تبت میں واقعات کی آزاد تصدیق انتہائی مشکل ہے کیونکہ غیر ملکی صحافیوں پر پابندیاں ہیں اور تبتین کو بیرونی میڈیا سے معلومات شیئر کرنے پر جیل کا خطرہ ہے۔

لاپتہ غیر ملکی سیاح

261 لاپتہ غیر ملکیوں میں بھارت، امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے شہری شامل ہیں۔ کم از کم 15 برطانوی شہری لاپتہ افراد کی فہرست میں ہیں، جس سے بین الاقوامی تشویش میں اضافہ ہوا ہے اور آزاد تحقیقات کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔

چینی حکام کا ردعمل

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے معلومات کی فراہمی کو 'شفاف اور بروقت' قرار دیتے ہوئے سنسرشپ یا سانحے کی شدت کم کرنے کے الزامات کو مسترد کیا۔ تاہم تنقید جاری ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی محقق مایا وانگ نے ماحولیاتی اور ارضیاتی طور پر حساس علاقوں میں وادیوں کی ترقی اور اس قسم کے سانحات کے درمیان تعلق پر سوال اٹھائے ہیں۔ جلاوطن تبتین گروپ بھی اس خطے میں بڑے پیمانے پر منصوبوں پر تنقید کرتے ہیں، جو مقامی کمیونٹیز کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔

میڈیا کوریج اور سوشل میڈیا

چینی میڈیا میں اس سانحے کی کوریج سرکاری میڈیا کے زیر اثر ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر مبصر ہو زنجن نے 'چند آوازوں' پر الزام لگایا کہ وہ 'بے بنیاد دعووں' سے تنازع پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ یہ موقف بین الاقوامی دباؤ کے برعکس ہے جو چین سے متاثرہ علاقے میں آزاد مبصرین کو رسائی دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اس دوران تلاش اور بچاؤ کے کام جاری ہیں، حالانکہ موسمی اور جغرافیائی حالات آپریشنز کو انتہائی مشکل بنا رہے ہیں۔ عالمی برادری اس سانحے کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے، جس نے شفافیت کی ضرورت اور چین میں معلوماتی کنٹرول کے درمیان کشیدگی کو اجاگر کیا ہے۔