ایران کا امریکی اڈوں پر حملہ: کویت اور متحدہ عرب امارات میں نیا بحران
ایران نے 3 ستمبر 2026 کو بیلسٹک میزائل اور ڈرون کے ذریعے خلیجی خطے میں دو امریکی فضائی اڈوں پر حملہ کیا: کویت میں احمد الجابر فضائی اڈہ اور متحدہ عرب امارات میں المنہاد فضائی اڈہ۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق کویت میں حملے کا نشانہ سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹم، سازوسامان کے ڈپو اور جنگی طیاروں کے ہینگرز تھے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں فورسز کی پوزیشنوں اور ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا گیا۔
کویت کی وزارت دفاع نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر تصدیق کی کہ فضائی دفاع نے حملوں کو ناکام بنا دیا اور انہیں 'ایران کی اشتعال انگیز جارحیت' قرار دیا۔ کویت سٹی میں ایک رہائشی عمارت کو ڈرون حملے میں نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
علاقائی کشیدگی میں اضافہ: بحرین اور اردن نے بھی حملے ناکام بنائے
یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب ایک روز قبل بحرین اور اردن نے بدھ کو ایرانی فضائی حملوں کو ناکام بنایا تھا۔ اتوار کو امریکہ نے آبنائے ہرمز کے ایک جزیرے پر ایرانی راکٹ لانچروں پر حملہ کیا تھا، جس میں ایران پر پانی میں بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ غزہ میں جنگ اور اسرائیل کے ساتھ تنازع کے باعث یہ خطہ پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے۔
خیبر شکن میزائل: درستگی اور رفتار
ایران نے خیبر شکن نامی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل استعمال کیا، جو ایرانی فوجی صلاحیت کی علامت بن چکا ہے۔ یہ میزائل سستا، درست اور تیز رفتار ہے کیونکہ یہ ٹھوس ایندھن سے چلتا ہے اور اس میں آخری مرحلے میں تدبیر کی صلاحیت موجود ہے جو اسے اینٹی میزائل سسٹم کو بچانے میں مدد دیتی ہے۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس کافی ذخیرہ اور مسلسل پیداوار کی صلاحیت موجود ہے، تاہم یہ دعویٰ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے۔
معاشی اثرات: تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور آبنائے ہرمز کی بندش
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد مقدار اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے بہت کم ہے۔ جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور یہ بلند سطح پر برقرار ہیں، خاص طور پر امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل غیر یقینی صورتحال کے باعث۔ یہ صورتحال عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
اسرائیل کی وارننگ: ایران 'مایوس کن اقدامات' پر مجبور ہو سکتا ہے
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ امریکی اقتصادی پابندیاں مؤثر ہیں، لیکن یہ دباؤ ایران کو 'مایوس کن اقدامات' پر مجبور کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر اسے اپنے نظام کے خاتمے یا اندرونی بغاوت کا خوف ہو۔ کاٹز نے مزید کہا کہ اگر ایران اسرائیل پر حملہ کرتا ہے تو اسرائیل اپنی تمام پابندیوں سے آزاد ہو کر ایران کے تمام قومی، فوجی اور شہری انفراسٹرکچر پر حملہ کرے گا، بشمول توانائی کے شعبے۔ ان بیانات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پس منظر اور سیاق و سباق
موجودہ بحران غزہ کی جنگ، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جھڑپوں، اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تناؤ کا حصہ ہے۔ امریکہ نے خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز اور دفاعی نظام تعینات کیے ہیں، جبکہ ایران نے امریکی اڈوں اور مفادات پر حملوں کا جواب دیا ہے۔ عالمی برادری تشویش کے ساتھ دیکھ رہی ہے کہ یہ کشیدگی ایک بڑے علاقائی تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ماخذ: دی گارڈین، پیٹر بیومونٹ کی رپورٹ۔