امریکی ریاست مسوری کی سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ نئے کانگریشنل اضلاع کو نومبر کے انتخابات کے لیے روک دیا ہے۔ عدالت نے متفقہ فیصلے میں ریفرنڈم کا حکم دیا ہے تاکہ عوام خود فیصلہ کریں کہ نیا نقشہ منظور ہو یا مسترد۔ یہ فیصلہ ملک بھر میں انتخابی حدود کی باز تقسیم کی جنگ کے دوران سامنے آیا ہے۔

امریکی ریاست مسوری کی سپریم کورٹ نے 3 ستمبر 2026 کو ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے نئے کانگریشنل اضلاع کو روک دیا ہے جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے بنائے گئے تھے۔ یہ اضلاع نومبر 2026 میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے لیے تھے۔ عدالت نے متفقہ طور پر ریاستی سطح پر ریفرنڈم کا حکم دیا ہے تاکہ شہری خود فیصلہ کریں کہ نیا انتخابی نقشہ برقرار رکھا جائے یا مسترد کیا جائے۔

فیصلے کا مطلب کیا ہے؟

عدالت نے کہا کہ شہریوں کی طرف سے دائر کردہ ریفرنڈم کی درخواستیں، جن پر دسمبر میں 300,000 سے زیادہ دستخط جمع ہوئے تھے، قانونی، کافی اور بروقت تھیں۔ ریاست کے سیکرٹری آف اسٹیٹ، ریپبلکن ڈینی ہوسکنز نے اگست میں اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا، لیکن عدالت نے عوام کی حمایت میں فیصلہ دیا۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ 2020 کی مردم شماری پر مبنی پرانا نقشہ نومبر 2026 کے عام انتخابات کے لیے نافذ رہے گا۔ نئے اضلاع، جو اگست کی پرائمریوں میں استعمال ہو چکے ہیں، عام انتخابات میں استعمال نہیں ہوں گے۔

سیاق و سباق: باز تقسیم کی جنگ

مسوری کے گورنر مائیک کیہو نے پچھلے سال 5ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کے لیے خصوصی اجلاس بلایا تھا، جو فی الحال ڈیموکریٹ ایمانوئل کلیور کے پاس ہے۔ نیا نقشہ اس ضلع کو مشرق کی طرف بڑھاتا ہے، جس میں دیہی علاقے شامل کیے گئے جو ریپبلکن جھکاؤ رکھتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، نئے ڈیزائن کے تحت ضلع کے تقریباً 59% ووٹرز نئے تھے۔

اگست کی پرائمریوں میں، ریپبلکن ریاستی سینیٹر رک بریٹن نے نئے 5ویں ضلع میں نامزدگی جیتی، جبکہ کلیور نے بغیر کسی مخالفت کے اپنی پرائمری جیتی۔ مسوری کا وفد امریکی ایوان نمائندگان میں فی الحال 6 ریپبلکن اور 2 ڈیموکریٹس پر مشتمل ہے۔

قانونی بنیاد اور پس منظر

مسوری کا آئین مقننہ کے “کسی بھی ایکٹ” پر ریفرنڈم کی اجازت دیتا ہے، جس میں کانگریشنل اضلاع کی باز تقسیم بھی شامل ہے۔ عدالت نے پہلے ہی خصوصی اجلاس کی قانونی حیثیت، دہائی کے وسط میں باز تقسیم پر پابندی، اور اضلاع کی کمپیکٹنس کے خلاف اعتراضات کو مسترد کر دیا تھا۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کی طرف سے ملک بھر میں باز تقسیم کی جنگ جاری ہے، جس کا مقصد وسط مدتی انتخابات میں فائدہ حاصل کرنا تھا۔ ریپبلکنز کو امید تھی کہ وہ ان نئے نقشوں سے قومی سطح پر 10 اضافی نشستیں حاصل کر لیں گے۔

آگے کیا ہوگا؟

مسوری سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ امریکی سپریم کورٹ میں اپیل کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران، 2020 کا اصل نقشہ نومبر کے انتخابات کے لیے نافذ رہے گا، جو ریپبلکن منصوبوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔

یہ فیصلہ ان چند قومی فیصلوں میں سے ایک ہے جو ریپبلکن باز تقسیم کے منصوبوں کے خلاف ہے، اور یہ دوسری ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔