قاہرہ میں منعقدہ علاقائی سربراہی اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کی حکمت عملی پر سوال اٹھایا اور کثیرالجہتی نقطہ نظر اور اقوام کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا۔ ان کے بیانات خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتے ہیں اور بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک نیا باب رقم کرتے ہیں۔

مصری دارالحکومت سے ایک زبردست پیغام

چین کے صدر شی جن پنگ نے جمعہ، 4 ستمبر 2026 کو قاہرہ کے اپنے دورے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کردار پر سخت تنقید کی۔ علاقائی سربراہی اجلاس میں اپنی تقریر میں، چینی رہنما نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ خطے کے ممالک کی خودمختاری کا احترام کریں اور بیرونی مداخلت ترک کریں، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس نے صرف عدم استحکام اور مصائب پیدا کیے ہیں۔

شی جن پنگ کے یہ الفاظ ایسے وقت میں آئے ہیں جب جغرافیائی سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور چین بین الاقوامی تنازعات کے حل میں ایک اہم کردار کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے، جو خطے میں واشنگٹن کے روایتی بالادستی کے کردار کے برعکس ہے۔

“بین الاقوامی برادری کو کثیرالجہتی اور بین الاقوامی قانون کا دفاع کرنا چاہیے، اور خطے کے عوام کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے،” چینی رہنما نے سرکاری ذرائع کے مطابق کہا۔

سیاق و سباق: مشرق وسطیٰ میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ

شی جن پنگ کا مصر کا دورہ عرب ممالک کے ساتھ چین کے اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں، بیجنگ نے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، توانائی کے معاہدوں اور عرب لیگ اور خلیجی تعاون کونسل جیسے کثیرالجہتی فورمز میں فعال شرکت کے ذریعے خطے میں اپنی موجودگی بڑھائی ہے۔

یہ قربت امریکہ کی خارجہ پالیسی کے برعکس ہے، جسے اس کی فوجی مداخلتوں اور بعض اتحادیوں کی غیر مشروط حمایت کی وجہ سے مختلف حلقوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔ شی جن پنگ کی تنقید، اگرچہ پردہ دار ہے، ایک واضح حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے: چین کو ایک پرامن اور عوام کی خود ارادیت کا احترام کرنے والے متبادل کے طور پر پیش کرنا۔

رد عمل اور ممکنہ اثرات

چینی صدر کے بیانات بین الاقوامی برادری میں کسی کا دھیان نہیں گئے۔ Le Monde جیسے ذرائع سے منسلک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تقریر بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتی ہے، خاص طور پر عالمی اثر و رسوخ کے مقابلے کے تناظر میں۔

دوسری طرف، مشرق وسطیٰ کے ممالک چین کی ثالثی کو خوش آئند سمجھتے ہیں، جس نے متعدد مواقع پر امن مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جیسے سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2023 میں ہونے والی قربت۔ شی جن پنگ کا مؤقف چین کی سفارتی پل کے طور پر تصویر کو تقویت دیتا ہے، حالانکہ کچھ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ خطے میں اس کے اقتصادی مفادات اس کی غیر جانبداری کو متاثر کر سکتے ہیں۔

بین الاقوامی تعاون کی اپیل

اپنی تقریر میں، چینی رہنما نے خطے کے مسائل کو مذاکرات اور تعاون کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، اور بیرونی ماڈلز مسلط کرنے سے گریز کیا۔ “ہر ملک کو اپنے ترقی کے راستے کا انتخاب کرنے کا حق ہے،” انہوں نے کہا، جو چین کی خارجہ پالیسی میں عدم مداخلت کے اصولوں کی طرف واضح اشارہ ہے۔

قاہرہ سربراہی اجلاس، جس میں کئی عرب اور افریقی ممالک کے نمائندے شریک ہیں، چین کے لیے عالمی نظام کے بارے میں اپنے نقطہ نظر پیش کرنے کا ایک اہم موقع بن گیا ہے، ایسے وقت میں جب عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔

دریں اثنا، وائٹ ہاؤس نے شی جن پنگ کے بیانات کا کوئی سرکاری جواب نہیں دیا ہے، تاہم توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں دو طرفہ سفارتی چینلز پر اس معاملے پر بات ہوگی۔

ماخذ: Le Monde