ایک ریسکیو جو ناممکن لگ رہا تھا
4 ستمبر 2026 بروز جمعہ کو دنیا نے سانس روک کر دیکھا جب نیپال کی فوج اور مسلح پولیس نے سنجے ساہ (30 سال) اور کبیر مہارجن (45 سال) کو تریشولی 3A پن بجلی سرنگ کے اندر سے زندہ نکالا۔ دونوں 26 اگست کی اچانک سیلاب کے بعد سے پھنسے ہوئے تھے، جو چین کی سرحد کے قریب گلیشیئر کے گرنے سے آنے والے بڑے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے آیا تھا۔
ریسکیو ٹیموں نے دن رات کام کیا اور سرنگ کے اندر سے آوازیں سن کر متاثرین سے رابطہ قائم کیا۔ “ڈرو مت، ہم آپ کو نکال رہے ہیں”، انہوں نے چلایا، اور جواب ملا: “ٹھیک ہے”۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے آپریشن کا رخ بدل دیا، جس میں سیٹلائٹ ڈیٹا، انجینئرنگ کے نقشے، بھاری مشینری، دھماکہ خیز مواد اور دستی کھدائی کا استعمال کیا گیا۔
“ہر ایک کی جان بچانا میری ذمہ داری تھی”، سنجے ساہ نے بتایا، جنہوں نے پھنسنے سے پہلے 40-45 دیگر مزدوروں کو نکالنے میں مدد کی۔
زندہ بچ جانے والے اور ان کی صحت کی حالت
سنجے ساہ، جو مشرقی نیپال کے ساپتاری ضلع سے تعلق رکھنے والے مکینیکل فارمین ہیں، کو مستحکم حالت میں نکالا گیا۔ انہوں نے قید کے دوران ہندو منتر پڑھ کر اور دوسرے پھنسے ہوئے لوگوں (تقریباً 3-4 افراد) سے اونچی آواز میں بات کرکے اپنی جان بچائی۔
کبیر مہارجن، کھٹمنڈو سے تعلق رکھنے والے مکینیکل سپروائزر، کو نازک حالت میں پایا گیا اور وہ ابھی انتہائی نگہداشت میں ہیں۔ دونوں کو فوری طور پر کھٹمنڈو کے بیرندرا ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں خصوصی طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ریسکیو کے بعد، ٹیموں نے ایک تیسرے مزدور بنود پانڈے کی لاش برآمد کی، جو زندہ نہ بچ سکے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ابتدائی طور پر سرنگ میں 40 سے 42 مزدور پھنسے تھے۔
ایک بین الاقوامی آپریشن
ریسکیو آپریشن کی قیادت نیپال کی فوج اور مسلح پولیس نے کی، جس میں بھارت، چین اور جنوبی کوریا کے ماہرین نے حصہ لیا۔ آسٹریلوی ماہر ارضیات آرنلڈ ڈکس نے آپریشن میں مشورہ دیا، جنہوں نے نام نہاد “گولڈی لاکس زونز” کی نشاندہی کی، جہاں درجہ حرارت، آکسیجن اور پانی کے حالات بقا کی اجازت دے سکتے تھے۔
مزدور سرنگ کے داخلی راستے سے تقریباً 170 میٹر کے فاصلے پر پائے گئے، جو ایک ایسا حصہ تھا جہاں تلاش کو تیز کیا گیا تھا۔ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور مقامی علم کا امتزاج انہیں زندہ تلاش کرنے کی کلید ثابت ہوا۔
معجزے کے پیچھے سانحہ
26 اگست کے سیلاب، جو گلیشیئر کے گرنے سے آیا، نے بھوٹیکوشی اور تریشولی دریاؤں کے طاس کو تباہ کر دیا، جس سے کمیونٹیز، پل، سڑکیں اور اہم انفراسٹرکچر تباہ ہو گئے۔ 4 ستمبر تک، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق:
| ملک | اموات | لاپتہ |
|---|---|---|
| نیپال | 1,290 سے زیادہ | 4,788-5,000+ (بشمول 601 غیر ملکی) |
| چین (تبت) | کم از کم 31 | 531-550 |
| بھارت | 3 لاشیں برآمد | — |
سی این این کے مطابق، مجموعی تعداد 1,326 اموات تک پہنچ گئی ہے۔ نیپال میں 900 سے زیادہ پن بجلی منصوبوں کے مزدور لاپتہ ہیں، جو اسے خطے کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک بناتا ہے۔
انسانی امداد اور وطن واپسی
اس تباہی نے بین الاقوامی برادری کو متحرک کر دیا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کا اندازہ ہے کہ نیپال میں 43,000 افراد (تقریباً 10,000 خاندان) کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ ملک بھر میں 84,000 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
یونیسیف کو یورپی یونین کی مالی اعانت سے کھٹمنڈو میں 84 ٹن امدادی سامان کی پرواز موصول ہوئی، جو سب سے زیادہ کمزور خاندانوں کی مدد کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ، چین میں پھنسے 269 نیپالی شہریوں کو واپس لایا گیا: 114 جمعرات کو اور 155 جمعہ کو۔
مقامی سطح پر، دیہاتی تریشولی دریا کو عبور کرنے کے لیے عارضی زیپ لائنز استعمال کر رہے ہیں، جبکہ چین نے نیپال کی سرحد پر ژانگمو بندرگاہ پر کسٹم کی سہولیات کو نئے خطرات کے پیش نظر منتقل کر دیا ہے۔
امید کی کرن
سنجے اور کبیر کا ریسکیو ثابت کرتا ہے کہ انتہائی مشکل حالات میں بھی زندگی راستہ تلاش کر لیتی ہے۔ 60 میگاواٹ کی تریشولی 3A پن بجلی منصوبہ خطے کی ترقی کی علامت تھا؛ آج اس کی سرنگیں بقا کی ایک ایسی کہانی کا منظر بن گئی ہیں جو پوری دنیا کو متاثر کرتی ہے۔
تلاش کے کام جاری ہیں، اور بین الاقوامی برادری ہزاروں خاندانوں کے دکھ کو کم کرنے کے لیے کوششیں تیز کر رہی ہے جو ابھی تک اپنے پیاروں کی خبر کا انتظار کر رہے ہیں۔ امید، اگرچہ نازک ہے، زندہ ہے۔