مشرق وسطیٰ کے تنازع کے ایک نئے باب میں، اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے جمعہ 4 ستمبر 2026 کو حزب اللہ کے زیرِ قبضہ ایک اہم پہاڑی پر قبضے کی تصدیق کی، جو انہیں علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ آپریشن شمالی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ہوا ہے اور خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحد پر جاری تنازع میں ایک اہم موڑ آ گیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے جمعہ 4 ستمبر 2026 کو ایک اسٹریٹجک پہاڑی پر قبضے کا اعلان کیا، جو اس سے قبل شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے کنٹرول میں تھی۔ فرانسیسی اخبار لی موندے کے مطابق، یہ فتح اسرائیل کو علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے گی، جو پچھلے کئی ہفتوں سے شدید جھڑپوں کا میدان بنا ہوا ہے۔

اس پہاڑی کا مقام، جس کی صحیح تفصیلات اسرائیلی حکام نے فراہم نہیں کیں، حکمت عملی اور رسد کے لحاظ سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس پر قبضہ نہ صرف علاقے پر بصری اور زمینی کنٹرول فراہم کرتا ہے، بلکہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی رسد اور مواصلاتی راستوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

سیاق و سباق: بڑھتی ہوئی کشیدگی

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ کئی مہینوں سے اسرائیل کی شمالی سرحد فائرنگ کے تبادلے، ڈرون حملوں اور مختلف شدت کی زمینی کارروائیوں کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اس پہاڑی پر قبضہ اسرائیلی پیش رفت کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد حزب اللہ کے فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے، جسے اسرائیل اور امریکہ دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں، لیکن اسے ایران کی طرف سے سیاسی اور فوجی حمایت حاصل ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کئی بار خبردار کیا تھا کہ ان کا ملک حزب اللہ کو سرحد پر اپنی پوزیشنیں مضبوط کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ جمعہ کا آپریشن اس انتباہ کا عملی مظہر ہے، حالانکہ اسرائیلی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد یا آپریشن کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

رد عمل اور ممکنہ نتائج

ابھی تک حزب اللہ نے اس پہاڑی کے نقصان پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم، بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ملیشیا کی طرف سے سخت جوابی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے، جو تاریخی طور پر اسرائیلی سرزمین پر راکٹ اور میزائل حملوں کا جواب دیتی رہی ہے۔

سفارتی محاذ پر، عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ نے متعدد بار کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے، لیکن مستقل جنگ بندی کی کوششیں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔ لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (UNIFIL)، جو علاقے میں گشت کرتی ہے، نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اس پہاڑی کا علاقائی سلامتی کے لیے کیا مطلب ہے؟

ایک پہاڑی پر قبضہ بڑے تنازع میں معمولی تفصیل لگ سکتا ہے، لیکن جنوبی لبنان کے پہاڑی علاقے میں بلندیوں کا کنٹرول انتہائی اہم ہے۔ ان پوزیشنوں سے ارد گرد کے علاقے پر بصری کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے، توپ خانے کی فائرنگ کو زیادہ درست بنایا جا سکتا ہے، اور دشمن کی نقل و حرکت کو مشکل بنایا جا سکتا ہے۔ اسرائیل کے لیے، ان بلندیوں کو محفوظ بنانا شمالی کمیونٹیز کی سلامتی بحال کرنے کے اعلان کردہ ہدف کی طرف ایک اور قدم ہے، جو مسلسل نقل مکانی اور حملوں کا سامنا کر رہی ہیں۔

جمعہ کا آپریشن ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جو درست حملوں اور محدود زمینی پیش رفت کو یکجا کرتی ہے، جس کا مقصد اپنی ہلاکتوں کو کم سے کم کرتے ہوئے حزب اللہ کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ اگرچہ اسرائیلی اعلان مکمل کنٹرول کی بات کرتا ہے، لیکن خطے کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کوئی بھی اقدام طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔

یہ ادارہ واقعات کی پیش رفت اور ان کے خطے اور عالمی برادری پر اثرات پر نظر رکھے گا۔