ساختی تباہی کی ایک دردناک داستان
جیسا کہ The Guardian کی رپورٹ کے مطابق، بدھ 16 ستمبر 2026 کو غزہ شہر میں ایک عمارت گرنے کا واقعہ پیش آیا جس نے عالمی برادری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ کئی منزلوں پر مشتمل یہ عمارت، جو گزشتہ حملوں کی وجہ سے پہلے ہی شدید طور پر کمزور ہو چکی تھی، اچانک اپنے ہی وزن سے گر گئی، جس کے نتیجے میں ساتھ لگے ہوئے خیمے بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے۔
جانی نقصان کی تفصیلات
- جاں بحق: کم از کم 21 افراد (جن میں 11 بچے شامل ہیں)۔
- زخمی: 25 افراد جنہیں فوری طور پر طبی مراکز منتقل کیا گیا۔
- متاثرین: اس عمارت میں تقریباً 100 بے گھر خاندان رہائش پذیر تھے۔
بچاؤ کی صورتحال
غزہ کی سول ڈیفنس، اقوام متحدہ (UN) اور مصری امدادی ایجنسی کی ٹیمیں انتھک کام کر رہی ہیں۔ بھاری مشینری کی شدید قلت کی وجہ سے، بچاؤ کرنے والے کارکن اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے پر مجبور ہیں، کیونکہ ملبے کے نیچے سے اب بھی لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
علاقے کی سنگین صورتحال
یہ المیہ رہائشی بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اندازہ ہے کہ بمباری سے متاثرہ تقریباً 2,000 عمارتیں اب بھی کھڑی ہیں جو آبادی کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔ کرایوں کی بھاری قیمتوں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی وجہ سے ہزاروں خاندان ایسی غیر مستحکم عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
| شرح (غزہ وزارت صحت) | جنگ کے دوران کل تعداد | جنگ بندی (11/10/2025) کے بعد سے |
|---|---|---|
| جاں بحق | 73,783 | 1,369 |
| زخمی | 174,738 | 4,627 |
اس کے ساتھ ساتھ، شیخ رادوان محلے میں 15 سالہ نوجوان محمد الزیناتی کی موت کی اطلاع ملی ہے، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی لاش نکالنے کی کوشش کے دوران ڈرون حملے کا شکار ہوا۔
سیاسی محاذ پر، اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ مکمل پیمانے پر جنگ دوبارہ شروع کرنے اور ہجرت کے منصوبے پر عمل درآمد کرنے میں صرف وقت کی بات ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ غزہ کی 70% آبادی پہلے ہی وہاں سے نکالی جا چکی ہے۔