جرمنی اس وقت ایک شدید اندرونی بحران کا شکار ہے جس کے بعد انتہائی دائیں بازو کی پارٹی AfD نے ساکسونی-انہالت میں 44% ووٹ حاصل کر کے ایک بڑی فتح حاصل کی ہے۔ یہ صورتحال چانسلر فریڈرک میرز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، کیونکہ بڑھتا ہوا دباؤ یوکرین کو فوجی امداد روکنے اور روس سے گیس کی فراہمی دوبارہ شروع کرنے کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔

ساکسونی-انہالت میں سیاسی تبدیلی: ایک بڑا دھماکہ

جرمنی کی سیاست میں ایک غیر متوقع موڑ آیا ہے جس نے پورے یورپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، 6 ستمبر 2026 کو انتہائی دائیں بازو کی پارٹی AfD نے ساکسونی-انہالت کے علاقے میں 44% ووٹ حاصل کیے۔ یہ صرف ایک انتخابی جیت نہیں ہے بلکہ ایک واضح پیغام ہے: اس خطے کے تقریباً 60% ووٹرز یوکرین کی موجودہ امداد کے خلاف ہیں اور وہ کیف کی دفاعی مدد کے بجائے یورپ میں امن اور اپنے ملک کے اندرونی سماجی تحفظ کو ترجیح دیتے ہیں۔

📍 سیاسی نقشہ: تقسیم شدہ جرمنی

جرمنی اس وقت دو حصوں میں بٹا ہوا نظر آتا ہے۔ جہاں برلن میں وفاقی حکومت آزادی کے دفاع کے لیے قائم ہے، وہیں مشرقی جرمنی میں مداخلت کے خلاف شدید جذبات ابھر رہے ہیں۔ ایلس وائیڈل کی قیادت میں AfD اس وقت ایک ایسی قوت بن کر ابھری ہے جو روس کے حوالے سے یورپی اتفاق رائے کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بنیادی تنازع: سیکیورٹی بمقابلہ معیشت

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بنیادی اختلافات کا موازنہ

تنازع کا محور حکومتی موقف (فریڈرک میرز) AfD / BSW کا موقف
یوکرین کی امداد جاری رکھنی چاہیے (آزادی کا دفاع) فوری بند اور مذاکرات کا آغاز
توانائی کے ذرائع روس پر انحصار کا خاتمہ سستی روسی گیس کی واپسی
بجٹ کی تقسیم دفاع میں تزویراتی سرمایہ کاری اندرونی سماجی اخراجات کی طرف رخ

اثرات: کیا یہ ایک زنجیری ردعمل ہے؟

عام شہریوں کے لیے یہ صورتحال ایک ایسے بحران کی طرح ہے جہاں معاشرے کا ایک حصہ محسوس کرتا ہے کہ جب ملک کی اپنی معیشت کمزور ہو رہی ہے، تو پیسہ "غیروں کے مسائل" پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ سروے کے مطابق 42% جرمن اب یہ سمجھتے ہیں کہ فوجی امداد کی حد بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

تناؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب 1 ستمبر 2026 کو لیپزگ (Leipzig) ایئرپورٹ پر روسی ڈرونز کے حملے کی اطلاع ملی۔ یہ ایئرپورٹ فوجی امداد کے لیے ایک اہم لاجسٹک مرکز ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنگ کے اثرات اب براہ راست جرمن سرزمین تک پہنچ رہے ہیں۔