مذہبی روایات اور جدید حقوق کا ٹکراؤ
فرانس کے بشپوں کی کانفرنس (CEF) نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پوپ کے دورے کے دوران ہونے والی سرکاری تقریبات میں خواتین قربانی کی میز (Altar) کی خدمات میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔ یہ کام مکمل طور پر مرد سیمینارسٹس (مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء) کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے۔
کیتھولک چرچ میں 'Altar Service' یا قربانی کی میز کی خدمت ایک اہم لٹورجیکل عمل ہے، جس میں عبادت کے دوران پوپ یا پادری کی مدد کی جاتی ہے۔ خواتین کو صرف ثانوی خدمات تک محدود کرنا ایک بڑے تنازع کی بنیاد بن گیا ہے۔
🗺️ پس منظر: فرانس اور ویٹیکن
فرانس ایک ایسی ریاست ہے جو مذہب اور حکومت کو الگ رکھتی ہے (Laïcité)، لیکن وہاں کیتھولک روایات بہت گہری ہیں۔ عالمی سطح پر، ویٹیکن میں روایتی سوچ اور اصلاحاتی سوچ کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ پوپ فرانسس نے خواتین کے لیے انتظامی عہدوں کے دروازے کھولے تھے، لیکن فرانس میں یہ حالیہ فیصلہ ایک قدامت پسند موڑ سمجھا جا رہا ہے۔
تقریب میں کرداروں کا موازنہ
| کردار/کام | خواتین | سیمینارسٹس (مرد) |
|---|---|---|
| قربانی کی میز کی خدمت (Offertory) | ممنوع | اجازت ہے |
| عام انتظامی خدمات | اجازت ہے | اجازت ہے |
یہ خبر کیوں اہم ہے؟
اس صورتحال کو یوں سمجھیں کہ جیسے کسی ادارے میں سالوں کی جدوجہد کے بعد خواتین کو برابر کے حقوق ملیں، لیکن اچانک ایک انتظامی فیصلے سے انہیں دوبارہ پیچھے دھکیل دیا جائے۔ پوپ لیون XIV کے دورے سے امید تھی کہ وہ کھلے پن کی پالیسی جاری رکھیں گے، لیکن فرانس میں مقامی انتظامیہ کے اس فیصلے نے 'گلاس سیلنگ' (Glass Ceiling) یعنی ترقی کی پوشیدہ رکاوٹ کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔