فرانس میں ایک حالیہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ اب دنیا کو بدلنے کے بڑے خوابوں کے بجائے اپنی روزمرہ زندگی کو بچانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث فرانسیسی شہری اب توانائی کی تبدیلی یا مصنوعی ذہانت (AI) کے بجائے ایئر کنڈیشننگ اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورتوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

خیالی دنیا سے حقیقت کی طرف سفر

فرانس کے لوگ اب نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے بجائے اس چیز کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں جو باقی بچی ہے۔ ایک حالیہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ وہاں اب "روزمرہ کی ایکولوجی" کا رجحان بڑھ رہا ہے، جہاں ترجیح بڑے عالمی وعدوں کے بجائے شدید موسم سے بچاؤ اور جسمانی تحفظ ہے۔

🗺️ پس منظر اور صورتحال: فرانس اس وقت ایک شدید موسمیاتی بحران سے گزر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 ملک کی تاریخ کا گرم ترین مہینہ رہا (اوسط درجہ حرارت 24.9°C)، جس کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر جنگلات میں آگ لگی۔ اس صورتحال نے لوگوں کی سوچ کو گھر کی حفاظت اور صحت تک محدود کر دیا ہے۔
سالی 2056 تک کے لیے ترجیحات
ترجیح فیصد (%) مقصد
سبز پودے اور درخت 46% بنیادی فطرت کی بحالی
ایئر کنڈیشننگ (AC) 39% شدید گرمی سے بچاؤ
پانی کے فلٹرز 36% صاف پانی کی دستیابی
AI / الیکٹرک کاریں کم ٹیکنالوجی اب ثانوی حیثیت پر ہے
مقامی اقدامات پر بھروسہ

جہاں عالمی اقدامات پر لوگوں کا اعتماد کم ہو رہا ہے (صرف 56% سمجھتے ہیں کہ وہ اثر انداز ہو سکتے ہیں)، وہیں اپنے پڑوس میں کام کرنے کا جذبہ بہت زیادہ ہے (72%)۔ فرانسیسی شہریوں کے لیے اب ماحول کی حفاظت کا مطلب گلی میں پودے لگانا یا اپنی عمارت کو گرمی سے محفوظ بنانا ہے۔

بڑے خدشات
!
موسمیاتی آفات: 50%
💧
پانی کی کمی: 43%

لوگوں کا جنگلات کے ساتھ ایک گہرا جذباتی تعلق ہے اور وہ اکثر وہاں کا رخ کرتے ہیں۔

سیاسی اثرات

یہ عملی سوچ، جو ماحول کو خریدنے کی طاقت اور صحت سے جوڑتی ہے، 2027 کے صدارتی انتخابات کے ایجنڈے کو تبدیل کر دے گی۔ اب ووٹرز "نئی دنیا" کے وعدوں کے بجائے زمین کے تحفظ اور بنیادی تحفظ کی ضمانت دینے والے امیدواروں کو ووٹ دیں گے۔

ذریعہ: Libération