کئی دہائیوں تک، دنیا کی بڑی طاقتوں نے سمندر کی گہرائیوں کو جوہری فضلے کے لیے ایک محفوظ 'کچرا کنڈی' کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن آج کی جدید ٹیکنالوجی اور خودکار آبدوزوں (Autonomous Vehicles) نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سٹیل کے وہ کنٹینرز، جنہیں ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، وقت اور نمکین پانی کے زنگ کی وجہ سے ٹوٹ چکے ہیں، جس سے تابکاری مواد سمندر میں رل رہا ہے۔
پس منظر: سمندر میں کچرا پھینکنے کا تصور
1940 اور 1980 کی دہائیوں کے دوران، یہ مانا جاتا تھا کہ سمندر کی گہرائی تابکاری مواد (Radionuclides) کو انسانی آبادی سے دور رکھنے کی سب سے محفوظ جگہ ہے۔ اس سوچ کے تحت امریکہ اور دیگر ممالک نے لاکھوں ٹن جوہری کچرا بحر الکاہل اور بحر اتلسٹک میں پھینکا۔ یہ خطرناک عمل تب رکا جب 1994 میں لندن کنونشن (London Convention) کے ذریعے عالمی سطح پر اس پر پابندی عائد کی گئی، کیونکہ یہ تسلیم کیا گیا کہ یہ مواد طویل مدت میں سمندری زندگی کو تباہ کر سکتا ہے۔
بحر الکاہل کی میراث: فارالونز سینکچوئی
سان فرانسسکو کے مغربی ساحلوں پر صورتحال مزید سنگین ہے۔ 1946 سے 1970 کے درمیان امریکہ نے تقریباً 47,800 کنٹینرز ایک وسیع علاقے میں پھینکے، جن میں سے اکثر گریٹر فارالونز نیشنل میرین سینکچوئی کے اندر ہیں۔
| پایا جانے والا مادہ | اثرات / مقام |
|---|---|
| پلوٹونیئم-238 | مقامی مچھلیوں اور سیپوں (Mussels) میں پایا گیا |
| سائنائیڈ، مرکری، بیریلیئم | سمندری ماحول میں زہریلے اثرات |
عالمی اثرات اور مستقبل کی امیدیں
- ممکن ہے کہ عالمی دباؤ کی وجہ سے ان علاقوں کی صفائی کے لیے نئے بین الاقوامی معاہدے کیے جائیں۔
- سمندری جانداروں میں تابکاری کی موجودگی کی وجہ سے گہرے سمندروں میں مچھلی کے شکار کے قوانین تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔
- عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں ایک نیا نظام قائم کیا جا سکتا ہے تاکہ عالمی غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
- اگر یہ تابکاری دوسرے ممالک کے سمندری حدود میں داخل ہوئی تو سفارتی تنازعات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔