یمن کی صورتحال اس وقت انتہائی غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ Le Monde کی رپورٹس کے مطابق، حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر یمنی سرزمین پر مہلک حملوں کے نئے سلسلے شروع کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس دوران باغیوں نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل باب المندب (Bab al-Mandeb) کے راستے پر قبضہ کر لیا ہے اور ریاض اور مأرب میں اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔
جیو پولیٹیکل پس منظر: یہ جنگ کیا ہے؟
یمن کی یہ جنگ دراصل ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک "پروکسی وار" (Proxy War) ہے، یعنی دو بڑی طاقتیں براہ راست لڑنے کے بجائے مقامی گروپوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس تنازع میں باب المندب کی اہمیت اس لیے ہے کیونکہ یہ بحیرہ احمر اور بحر ہند کو ملاتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جہاں سے خلیج فارس کا تیل اور گیس یورپ اور افریقہ کی طرف جاتی ہے۔ اس راستے پر کنٹرول کا مطلب ہے عالمی تجارت کی شہ رگ پر قبضہ کرنا۔
توانائی کا بحران اور عالمی سفارت کاری
یہ فوجی تصادم صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس نے ایک "ڈومینو اثر" پیدا کر دیا ہے۔ تہران کی جانب سے ہرمز آبنائے (Strait of Hormuz) کی بندش اور حوثیوں کے حملوں نے فوری توانائی بحران پیدا کر دیا ہے:
| کموڈٹی (Commodity) | موجودہ قیمت / اثر |
|---|---|
| خام تیل (Crude Oil) | 100 USD سے زیادہ |
| قدرتی گیس (Natural Gas) | 80 EUR/MWh |
اس معاشی دباؤ کی وجہ سے ایمانوئل میکرون اور ڈونلڈ ٹرمپ نیویورک میں سمندری راستوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ نے فوجی مداخلت کے حوالے سے ہچکچاہٹ دکھائی ہے اور اسے نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے نتائج اور گولہ بارود کی دستیابی سے مشروط کر دیا ہے۔ دوسری طرف، برطانیہ نے صرف دفاعی ری فیولنگ طیاروں کی مدد تک محدود رہ کر مغربی اتحاد میں تقسیم کا اظہار کیا ہے۔
اہم نکتہ: ایران کا کردار
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ تناؤ بڑھا تو وہ جنگ کے دائرے کو مزید وسیع کر دیں گے۔ تہران یمن کی اس عدم استحکام کو ایک "باہمی سودے بازی" کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ بحری ناکہ بندی ختم کروائی جا سکے اور اپنے منجمد اثاثے واپس حاصل کیے جا سکیں۔
مستقبل کے ممکنہ منظرنامے
اگر حوثیوں نے سعودی عرب کے مشرق-مغرب پائپ لائنز پر حملہ کیا، تو تیل کی قیمتیں 120 ڈالر تک جا سکتی ہیں، جس سے سال کے آخر تک عالمی مہنگائی کا ایک ناقابلِ علاج بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
امید ہے کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی ثالثی میں انتخابات کے بعد ایک معاہدہ ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے تہران کو معاشی مراعات دے کر ہرمز آبنائے کو کھولا جا سکے اور قیمتیں مستحکم ہو جائیں۔