یوکرین کے دارالحکومت کیو میں 23 اور 24 ستمبر کے درمیان تباہ کن حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ روسی حملوں کا آغاز بدھ کو تیز رفتار اور مشکل سے پکڑے جانے والے جیٹ ڈرونز سے ہوا، جس کے بعد جمعرات کی رات بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائلوں کی بارش ہوئی۔ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ریلوے نیٹ ورک، کاروباری مراکز، پٹرول پمپوں اور سب سے زیادہ تشویشناک طور پر ایک زچہ بچہ ہسپتال اور کلینیکل تشخیص کے مرکز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پس منظر: توانائی اور سپلائی کی جنگ
سردیوں کے آغاز سے پہلے یوکرین کے بجلی اور توانائی کے نظام کو مکمل طور پر تباہ کرنا روس کی ایک منظم حکمت عملی کا حصہ لگتا ہے۔ دوسری طرف، عالمی برادری ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دباؤ پر نظر رکھے ہوئے ہے جس کا مقصد اس تنازعے کو جلد ختم کرنا ہے۔ اس صورتحال کو شمالی کوریا کی فوجوں کی ماسکو کی حمایت اور عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مزید پیچیدہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ کوشش کر رہا ہے کہ روسی ریفائنریوں پر حملے روک کر ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لائی جائے۔
سفارت کاری اور جنگ: کیو، واشنگٹن اور ماسکو کا محور
اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں صدر وولودیمیر زیلینسکی ایک انتہائی مصروف شیڈول سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے فن لینڈ کے ساتھ ڈرونز کے معاہدوں پر دستخط کیے اور جنوبی کوریا کے ساتھ قیدیوں کی تبادلے کی بات چیت کی۔ اس دوران انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تاکہ مزید Patriot (پیٹریاٹ) انٹرسیپٹر میزائلز حاصل کر سکیں (یہ ایسے میزائل ہوتے ہیں جو دشمن کے میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کر دیتے ہیں)۔ اگرچہ توانائی کے اہداف پر جنگ بندی کے بارے میں بات ہوئی، لیکن کسی ٹھوس معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا۔
مختلف ممالک کا موقف
| یوکرین: | خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کی جنگ بندی نہ ہوئی تو وہ روس کے لیے سردیوں کو انتہائی تکلیف دہ بنا دے گا۔ |
| روس: | کریملن کے نمائندے دمیتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے ابھی حالات موزوں نہیں ہیں۔ |
| امریکہ: | ولادیمیر پوتن کو دسمبر میں میامی میں ہونے والی G20 کانفرنس میں مدعو کیا ہے تاکہ عالمی معاشی استحکام کے لیے ثالثی کی جا سکے۔ |
زمینی صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے: ڈونیٹسک میں فضائی بمباری اور اوڈیسا پر حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ روس فوجی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے اور سفارت کاری کو صرف وقت گزارنے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
مستقبل کے امکانات
موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ امکان ہو سکتا ہے کہ یوکرین روس کے توانائی کے ڈھانچے پر اپنے حملے تیز کر دے تاکہ اسے مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔ شاید میامی میں ہونے والی G20 کانفرنس ٹرمپ اور پوتن کے درمیان براہ راست بات چیت کا پہلا موقع بنے، اگرچہ روس کی یہ شرط کہ زیلینسکی خود ماسکو جائیں، کسی بھی پیش رفت میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ آخر میں، آسٹریلیا جیسے اتحادیوں کی مالی امداد سے کیو کو مزاحمت کرنے میں مدد مل رہی ہوگی، لیکن سردیوں میں توانائی کی کمی اب بھی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
ذریعہ: Al Jazeera