امریکہ 3 نومبر کو ایک انتہائی فیصلہ کن انتخابی دن کی تیاری کر رہا ہے۔ سینیٹ میں ریپبلکنز کی اکثریت خطرے میں ہے اور ڈونالڈ ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کے باعث ڈیموکریٹس کو ٹیکساس اور مشیگان جیسی اہم ریاستوں میں قانون ساز کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا ایک تاریخی موقع مل سکتا ہے۔

امریکہ میں سیاسی منظرنامہ اور 'مڈ ٹرمز' (Midterms) کا مطلب

امریکہ کی سیاست اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ 3 نومبر کو ہونے والے یہ انتخابات، جنہیں Midterm Elections (درمیانی مدت کے انتخابات) کہا جاتا ہے، دراصل صدر کی مدت کے درمیان ہونے والے انتخابات ہوتے ہیں جو حکومت کی کارکردگی پر عوام کے فیصلے کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں، یہ انتخابات صرف نشستوں کی جنگ نہیں بلکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف ایک عوامی ریفرنڈم کی طرح نظر آتے ہیں۔ ایران کے ساتھ تناؤ اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام امریکی شہری کی جیب پر اثر ڈالا ہے، جس کی وجہ سے ریپبلکن پارٹی کی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں۔

اہم اعداد و شمار!

سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز سے صرف 4 نشستیں چھیننے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں ریپبلکنز کے پاس 53 اور ڈیموکریٹس کے پاس 47 نشستیں ہیں۔

اہم ریاستیں اور مقابلہ

Cook Political Report کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اصل مقابلہ ان ریاستوں میں ہے جہاں ووٹرز ابھی تک تذبذب کا شکار ہیں۔ جہاں کینساس (Kansas) میں ریپبلکنز مضبوط ہیں، وہیں جارجیا اور شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹس کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔

ریاست ڈیموکریٹ امیدوار ریپبلکن امیدوار رجحان (سروے)
ٹیکساس (Texas) جیمز ٹالاریکو کین پاکسٹن Talarico 47.6% | Paxton 44.7%
مشیگان (Michigan) عبدال ال سید مائیک روجرز El-Sayed 47.7% | Rogers 44.1%
آئیووا (Iowa) جوش ٹوریک اشلے ہنسن Turek 45.0% | Hinson 44.5%

ٹیکساس کا بڑا جوا

اگر جیمز ٹالاریکو جیت جاتے ہیں، تو وہ 1988 کے بعد سے جاری ریپبلکن تسلط کے سلسلے کو توڑ دیں گے، جو کہ ایک بہت بڑی سیاسی تبدیلی ہوگی۔

صحت عامہ اور نوجوان ووٹ

مشیگان میں عبدال ال سید "Medicare for All" (سب کے لیے مفت علاج) کے منصوبے کے ذریعے نوجوانوں اور ترقی پسند ووٹرز کو اپنی طرف مت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

الاسکا، نیو ہیمپشائر اور اوہائیو میں مقابلہ اتنا سخت ہے کہ نتیجہ کسی بھی طرف جا سکتا ہے۔ یہ نتائج آنے والے دو سالوں کے لیے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔