برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جہاں 33 سالہ اینجلیتا مانویلا روڈریگز کو اس کے سابق ساتھی نے سپر مارکیٹ میں اس وقت چاقووں سے وار کر کے قتل کر دیا جب وہ گوشت کی دکان پر قطار میں کھڑی تھی۔ یہ واقعہ 16 اگست 2026 کو پیش آیا اور اسے سیکیورٹی کیمروں میں قید کر لیا گیا۔

برازیل کو ہلا دینے والا قتل

پیر 16 اگست 2026 کو دوپہر تقریباً 1 بجے، اینجلیتا مانویلا روڈریگز (33 سال) کو اس کے سابق ساتھی لافائیٹ گونزاگا دا سلوا نے اس وقت قتل کر دیا جب وہ ساؤ پاؤلو کے شمالی علاقے مورو گرانڈے میں واقع ایک سپر مارکیٹ کے گوشت کے کاؤنٹر پر قطار میں کھڑی تھی۔

سپر مارکیٹ کے سیکیورٹی کیمروں میں قید اس واقعے کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم پیچھے سے آیا اور متاثرہ خاتون پر متعدد بار چاقو سے حملہ کیا، جبکہ دیگر گاہک اور بچے خوف سے دیکھتے رہے۔

فرار کی کوشش اور گرفتاری

حملے کے بعد ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن گاہکوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے روک لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ اسے 4th ویمن ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اسے خاتون کے قتل (فیمیسائیڈ) کے جرم میں رکھا گیا ہے۔

اینجلیتا کو فوری طور پر ہاسپٹل برازیلینڈیا منتقل کیا گیا لیکن وہ شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

دس سالہ تشدد اور کنٹرول

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اینجلیتا اور لافائیٹ کا رشتہ دس سال پر محیط تھا اور یہ پورا عرصہ جسمانی تشدد، ذہنی اذیت اور مسلسل دھمکیوں سے بھرا ہوا تھا۔

متاثرہ کی دوست لیلا لیرا نے مقامی اخبار فولیا ڈی ساؤ پاؤلو کو بتایا کہ "اینجلیتا اکثر چہرے پر زخموں کے نشانات کے ساتھ کام پر آتی تھی، پوری کمپنی کو اس کا علم تھا"۔ لیلا نے یہ بھی بتایا کہ ملزم اینجلیتا کو اس کے خاندان اور دوستوں سے الگ کر رکھا تھا، اور قتل سے کچھ دن پہلے اس نے اینجلیتا کی کتے کو بھی چاقو سے مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

لیلا کے مطابق، "اینجلیتا بہت نیک دل تھی، وہ سمجھتی تھی کہ وہ بدل جائے گا، لیکن وہ اس سے بہت ڈرتی بھی تھی"۔ دوستوں نے اینجلیتا کو اس سے الگ کرنے کے لیے ایک گھر کرائے پر لیا تھا لیکن وہ دوبارہ اس کے پاس واپس چلی گئی۔

ملزم کا موقف اور سماجی اثرات

پولیس کے سامنے اپنے بیان میں ملزم نے پشیمانی کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اینجلیتا نے اس کی "زندگی برباد کر دی" تھی۔ ملزم کی وکالت سرہا روزن بوم کر رہی ہیں، جبکہ متاثرہ کے خاندان نے ایک وکیل مقرر کیا ہے۔

یہ واقعہ برازیل میں بڑھتے ہوئے صنفی تشدد کی ایک اور مثال ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں برازیل میں 1,400 سے زیادہ فیمیسائیڈ کے واقعات رپورٹ ہوئے، اور صنفی تشدد خواتین کی پرتشدد اموات کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔

روک تھام کی ضرورت

اس واقعے نے برازیل میں خواتین کے تحفظ کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ خواتین کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ گھریلو تشدد کی متاثرین کے لیے مزید وسائل فراہم کیے جائیں اور حفاظتی احکامات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔

سپر مارکیٹ جیسی عام جگہ پر ہونے والا یہ پرتشدد واقعہ معاشرے پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے اور فیمیسائیڈ کی روک تھام اور سماجی مذمت کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔