عدالتی نظام میں نفرت انگیز تقریر کے خلاف ایک تاریخی فیصلہ
ارجنٹائن کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم موڑ پر، عدالتی کونسل کے جیوری نے منگل 18 اگست 2026 کو مار ڈیل پلاٹا کے وفاقی جج الفریڈو لوپیز کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ لوپیز مار ڈیل پلاٹا کی وفاقی عدالت نمبر 4 کے سربراہ تھے۔ انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر بار بار اینٹی سیمیٹک بیانات کی وجہ سے ہٹایا گیا۔
جیوری کے سیکرٹری جنرل مارسیلو بووا نے فیصلہ پڑھ کر سنایا کہ لوپیز نے اپنے فرائض میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جیوری کا کہنا تھا کہ ان کے بیانات نے علامتی تشدد اور امتیازی سلوک کی ترغیب دی۔
کیا پوسٹس کی وجہ سے جج کو ہٹایا گیا؟
جیوری نے X پر لوپیز کے 15 پیغامات کا جائزہ لیا جو ستمبر 2024 سے جولائی 2025 کے درمیان پوسٹ کیے گئے تھے۔ کچھ متنازع پوسٹس میں شامل تھے:
- ایک سروے جس میں پوچھا گیا کہ 'ارجنٹائن میں رہنے والے یہودی کس کے وفادار ہیں'
- 'اندرونی اور بیرونی یہودیوں' کے خلاف ریٹویٹ کی درخواست
- یہودی مخالف فورم کے بارے میں 'ان منافقوں' کا حوالہ
- ایک صارف کو جواب: 'اچھا، یہودی، یہ ٹویٹر ہے، مختصر کرو'
- AMIA کے عظیم ربی ایلیاہو ہامرا کی تصویر کے ساتھ سوال: 'کیا وہ نئی عدالت کی توسیع میں تورات یا آئین استعمال کریں گے؟'
لوپیز کا دفاع اور جیوری کا فیصلہ
اپنے دفاع میں لوپیز نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی بدنیتی نہیں تھی اور ان کی رائے عوامی معاملات پر تھی۔ انہوں نے کہا، 'نسل کشی کی مذمت کرنا نفرت نہیں بلکہ انسانی حقوق کا دفاع ہے' اور غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیا۔ انہوں نے آزادی اظہار رائے کی بھی دلیل دی۔
'نفرت انگیز تقریر آزادی اظہار کے تحفظ سے خارج ہے' - جیوری کا فیصلہ
جیوری نے کہا کہ آزادی اظہار کوئی مطلق حق نہیں ہے اور لوپیز کے پیغامات مستند تھے۔
جیوری کے ارکان اور عدالتی عمل
| رکن | عہدہ |
|---|---|
| مارسیلو گیسٹن بارٹومیو رومیرو | صدر، بیونس آئرس کی کرمنل کورٹ |
| نیسٹر پابلو بارل | فیڈرل کورٹ آف سان مارٹن |
| انا بیٹریز فرنانڈیز | وفاقی وکیل |
| نکولس مایوراز | قومی نمائندہ |
| کرسچن الیخاندرو زولی | قومی نمائندہ |
| ماریا بیلن مونٹی ڈی اوکا | قومی سینیٹر |
| ماریا فلورینشیا لوپیز | قومی سینیٹر |
اس کیس کی پیروی سینیٹر لوئس ہوزے اور وکیل البرٹو ماکیس نے کی۔ انہیں DAIA، نمائندہ سبرینا اجمیچیٹ، اور وکلاء یامل سانتورو اور ہوزے ماگیونکالڈا کی شکایات موصول ہوئیں۔
مستعفی ہونے کی کوشش ناکام
دلچسپ بات یہ ہے کہ لوپیز نے اپریل 2026 میں استعفیٰ دیا تھا، لیکن حکومت نے اسے مسترد کر دیا تاکہ تحقیقات جاری رہ سکیں۔
سیاسی اور سماجی ردعمل
اس فیصلے کو بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی۔ صدر اوییر میلی نے اس فیصلے کو شیئر کیا اور کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ ارجنٹائن میں کسی جج کو اینٹی سیمیٹک حملوں کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔
سیاستدان والڈو وولف نے کہا: 'ہمارا ملک مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان امن کی مثال ہے۔ ایک نازی کو جج کے عہدے سے ہٹانا خوش آئند ہے۔'
DAIA نے اسے 'ادارہ جاتی اہمیت کا واقعہ' قرار دیا۔ انہوں نے کہا: 'کسی جج کو رائے دینے پر نہیں ہٹایا جاتا۔ اسے اس وقت ہٹایا جاتا ہے جب اس کا رویہ انصاف کی غیر جانبداری اور اعتماد کے خلاف ہو۔'
انسداد سامیت کے خلاف ایک نظیر
یہ ارجنٹائن کی تاریخ میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقریر پر جج کی پہلی برطرفی ہے۔ جیوری نے رباط ٹیسٹ کا استعمال کیا، جو آزادی اظہار اور نفرت کے درمیان فرق کرنے کا بین الاقوامی معیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوپیز کے پیغامات نے علامتی تشدد اور امتیازی سلوک کو فروغ دیا۔
رباط ٹیسٹ کیا ہے؟
رباط ٹیسٹ اقوام متحدہ کا ایک طریقہ کار ہے جو یہ دیکھتا ہے کہ آیا کوئی بیان نفرت پر اکساتا ہے۔ اس میں پیغام کا سیاق و سباق، مقصد، مواد اور اثر دیکھا جاتا ہے۔
اب عدالتی کونسل کو مار ڈیل پلاٹا کی خالی جگہ پر نیا جج مقرر کرنے کے لیے مقابلہ شروع کرنا ہوگا۔