اٹلی کے شہر ٹیورین کے مشہور پارک ڈی لاریوور میں ایک 12 سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی رپورٹ سامنے آئی ہے، جس کے بعد ایک فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ بچے کی والدہ کے مطابق، بچے نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن حملہ آور نے اس کا راستہ روک کر اسے نشانہ بنایا۔ پولیس اب ملزم کی شناخت کے لیے تگ و دو کر رہی ہے۔

واقعے کی تفصیلات

ٹیورین کی پراسیکیوٹور آفس نے ایک 12 سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی اور ریپ کی سنگین شکایت پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ پارک ڈی لاریوور (Parco dell’Arrivore) کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک شخص نے بچے کو روک کر اس پر حملہ کیا۔

متاثرہ بچے کی والدہ کے بیان کے مطابق، بچے نے بار بار اس شخص سے بچنے اور بھاگنے کی کوشش کی، لیکن حملہ آور نے اس کا راستہ روک لیا، جس کے باعث بچہ بے بس ہو گیا اور اسے اس ہولناک زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔

شواہد کی جمع آوری

اس وقت کیس کے اہم شواہد جمع کرنے کا مرحلہ جاری ہے۔ تفتیش کار درج ذیل چیزوں پر توجہ دے رہے ہیں:

  • پارک کے داخلی راستوں پر نصب سیکیورٹی کیمروں (CCTV) کا جائزہ۔
  • واقعے کے وقت وہاں موجود گواہوں کے بیانات۔
  • ملزم کی شناخت کے لیے ڈی این اے (DNA) اور فارنزک رپورٹس کا انتظار۔

قانونی حیثیت

فی الحال حملہ آور کی شناخت نہیں ہو سکی ہے، اس لیے کیس نامعلوم ملزم کے خلاف چل رہا ہے۔

اہم قانونی نکتہ: متاثرہ بچے کی عمر اور جرم کی نوعیت کے پیش نظر، اس کیس کی کارروائی کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے تاکہ بچے کی شناخت محفوظ رہے اور اسے مزید ذہنی صدمے سے بچایا جا سکے۔

آگے کیا ہوگا؟

کیس کی پیش رفت کا انحصار اب جینیاتی ٹیسٹوں (Genetic Tests) کے نتائج پر ہو سکتا ہے۔ جیسے ہی مشتبہ شخص کی شناخت ہوگی، پراسیکیوٹور فوری گرفتاری اور preventive detention (احتیاطی نظارت) کی درخواست کر سکتے ہیں تاکہ ملزم فرار نہ ہو سکے۔

جرم کی سنگینی اور بچے کی کم عمری کو مدنظر رکھتے ہوئے، ملزم کے لیے سخت سزا کا امکان ہے، کیونکہ اس نے منصوبہ بندی کے تحت بچے کا راستہ روکا تھا۔

منبع: La Stampa