سرمایہ کاروں کے ساتھ فراڈ کے الزام میں سزا کاٹنے والی تھرانوس کی سابقہ سی ای او الزبتھ ہومز کو 23 اگست 2027 کو برائن فیڈرل جیل سے آسٹن ٹرانزیشن سینٹر منتقل کیے جانے کی عدالتی منظوری مل گئی ہے۔ یہ فیصلہ 'فرسٹ سٹیپ ایکٹ' کے تحت ملنے والے کریڈٹس اور وفاقی سزا کے رہنما خطوط میں تبدیلیوں کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

قانون کی گرفت اور نئی تبدیلی

وفاقی عدالت نے تصدیق کی ہے کہ بائیوٹیکنالوجی کی ناکام کمپنی تھرانوس (Theranos) کی بانی الزبتھ ہومز (عمر 42 سال) کو 23 اگست 2027 کو ٹیکساس کے علاقے ڈیل ویلی میں ایک ٹرانزیشن ہاؤس (ایسا مرکز جو قیدیوں کو جیل سے باہر کی زندگی کے لیے تیار کرتا ہے) میں منتقل کر دیا جائے گا۔ ہومز اس وقت F.P.C. برائن فیڈرل جیل میں اپنی سزا کاٹ رہی ہیں جہاں وہ مئی 2023 میں داخل ہوئی تھیں۔

پس منظر اور سزا

الزبتھ ہومز کو 2022 میں الیکٹرانک فراڈ کے تین الزامات اور سازش کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو اپنی کمپنی کی خون کے تجزیے کی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کے بارے میں دھوکہ دیا تھا۔

ان کی اصل سزا 11 سال اور 3 ماہ تھی، جسے فرسٹ سٹیپ ایکٹ (First Step Act)—جو کہ امریکہ میں قیدیوں کی اصلاحات کے لیے ایک قانون ہے—اور وفاقی گائیڈ لائنز کی بدولت کم کر کے 10 سال اور 3 ماہ کر دیا گیا ہے۔

مالی جرمانہ

سزا کے ساتھ ساتھ، عدالت نے ہومز پر 452 ملین ڈالرز کی واپسی (Restitution) کا حکم جاری کیا ہے، جو کہ ان سرمایہ کاروں کو ادا کرنا ہوگا جن کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی تھی۔

آزادی کی طرف قدم

آسٹن ٹرانزیشن سینٹر میں منتقلی ان کی قید کا آخری مرحلہ ہوگا، جس کے بعد ان کی مکمل رہائی 22 فروری 2030 کو متوقع ہے۔ جیل سے باہر آنے کے بعد، ہومز کو امریکہ کے پروبیشن آفس کی براہ راست نگرانی میں آسٹن میں رہنا ہوگا۔

قانونی نکتہ: سزا میں یہ کمی اچھے طرز عمل اور بحالی کے پروگراموں میں شرکت کے بدلے ملنے والے کریڈٹس کی بنیاد پر دی گئی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

ٹرانزیشن ہاؤس میں داخلے کے بعد، ہومز کی معاشی سرگرمیوں کی نگرانی سخت کی جا سکتی ہے۔ امکان ہے کہ پروبیشن آفس انہیں دوبارہ کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کمپنی کے آغاز یا کاروبار کرنے پر سخت پابندیاں عائد کر دے۔ اس کے علاوہ، ملینز ڈالرز کی واپسی کی ادائیگی پر بھی سخت مالی نگرانی رکھی جائے گی۔

بنیاد: Imago News