اقتصادی وزیر لوئیس کاپوٹو اور کابینہ کے سربراہ ڈیاگو سینٹیلی نے شمالی صوبوں کے گورنروں کے ساتھ گرم اور انتہائی گرم علاقوں کے لیے بجلی سبسڈی کے نئے نظام پر اتفاق کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سینیٹ میں سرد علاقوں کے قانون کی منظوری کو یقینی بنانا ہے، جو ہفتوں کی کشیدگی اور عدم اعتماد کے بعد طے پایا۔

مذاکرات کا آغاز اور اہم شرکاء

ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں واقع پالاسیو ڈی ہسینڈا (وزارت خزانہ) میں منگل 18 اگست 2026 کو ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں اقتصادی وزیر لوئیس کاپوٹو اور کابینہ کے سربراہ ڈیاگو سینٹیلی نے شمالی صوبوں کے گورنروں سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی اور آخرکار ایک تاریخی معاہدے پر منتج ہوئی۔

اس اجلاس میں کاٹامارکا (راؤل جلیل)، سالٹا (گوستاوو ساینز)، چاکو (لیانڈرو زیڈیرو)، کورینتس (جوآن پابلو والدیس) اور جوجوئی (کارلوس سادیر) کے گورنروں نے شرکت کی۔ لا ریوخا کے گورنر ریکارڈو کوینٹیلا، جو وفاقی حکومت سے کشیدگی رکھتے ہیں، کی نمائندگی ان کے وزیر صنعت فیڈریکو بزان اور سیکرٹری توانائی الفریڈو پیڈرالی نے کی۔ اس کے علاوہ، وفاقی سیکرٹری توانائی ماریا ٹیٹامانٹی اور سیکرٹری کوآرڈینیٹر برائے توانائی و معدنیات ڈینیئل گونزالیز بھی موجود تھے۔

نیا سبسڈی نظام: اعداد و شمار

ذرائع کے مطابق، اس معاہدے کے تحت انتہائی گرم علاقوں کے لیے بجلی سبسڈی 300 کلو واٹ گھنٹہ سے بڑھا کر 550 کلو واٹ گھنٹہ کر دی گئی ہے، جبکہ گرم علاقوں کے لیے اضافی بلاک 150 سے بڑھا کر 300 کلو واٹ گھنٹہ کر دیا گیا ہے۔ یہ شرح نومبر سے اپریل کے مہینوں میں لاگو ہوگی۔

علاقے کی قسمپرانے سبسڈی کی شرحنئی سبسڈی کی شرح
انتہائی گرم300 kW/h550 kW/h
گرم150 kW/h300 kW/h

یہ تبدیلی شمالی صوبوں کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں گرمی کی شدت کی وجہ سے بجلی کی کھپت تاریخی طور پر زیادہ رہی ہے۔

سیاسی پس منظر: سرد علاقوں کا قانون

ارجنٹائن کی کانگریس کے ایوان زیلی (چیمبر آف ڈپٹیز) میں سرد علاقوں کا قانون پہلے ہی منظور ہو چکا ہے، جس کا مقصد سرد علاقوں میں گیس کی سبسڈی کو کم کرنا ہے۔ تاہم، اسے سینیٹ میں منظوری کے لیے شمالی گورنروں کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔ گورنروں نے اپنی حمایت مشروط رکھی تھی کہ ان کی توانائی کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ اس معاہدے کے بعد، قانون کی منظوری کے بعد حکومت سرکاری گزٹ میں نئے سبسڈی نظام کا اعلان کرے گی۔

مذاکرات میں عدم اعتماد کی فضا تھی۔ گورنروں کو خدشہ تھا کہ قانون منظور ہونے کے بعد حکومت اپنے وعدے سے پھر جائے گی، جبکہ حکومت کو اندیشہ تھا کہ اگر پہلے سبسڈی دی گئی تو گورنر قانون کی حمایت نہیں کریں گے۔ آخرکار، بات چیت اور اعتماد کی فضا قائم ہوئی۔

رہنماؤں کے بیانات

اقتصادی وزیر لوئیس کاپوٹو نے اس معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا: ''شمالی گورنروں کے ساتھ بات چیت کے دوران، ہم نے گرم اور انتہائی گرم علاقوں کے لیے توانائی سبسڈی کو نئے سرے سے ترتیب دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ صوبوں کا تاریخی مطالبہ تھا۔ ہم نے مل کر اس پر عمل درآمد کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔''

کابینہ کے سربراہ ڈیاگو سینٹیلی نے کہا: ''ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ہم نے گورنروں کے مطالبات سنے، کام کیا اور حل تلاش کیا۔ یہ شمال کا تاریخی مطالبہ ہے اور ہم نے ثابت کیا کہ جب بات چیت اور حل تلاش کرنے کی خواہش ہو تو وفاق اور صوبے مل کر کام کر سکتے ہیں۔''

مالی اثرات: اخراجات اور بچت

موجودہ نظام کے تحت سرد علاقوں کے قانون کا خسارہ 485 ارب پیسو ہے۔ اگر یہ قانون سینیٹ سے منظور ہو جاتا ہے تو حکومت کو 272.099 ارب پیسو کی بچت ہوگی۔ تاہم، گرم علاقوں کے لیے نئی سبسڈی کا تخمینہ 71 سے 90 ملین امریکی ڈالر سالانہ ہے، جو زر مبادلہ کی شرح (1,495 پیسو فی ڈالر) کے مطابق تقریباً 134 ارب پیسو بنتا ہے۔ یہ رقم مطلوبہ بچت کا تقریباً نصف ہے۔

یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب حکومت مالیاتی سرپلس کو برقرار رکھنے کے لیے دباؤ میں ہے۔ سردیوں کا موسم 22 ستمبر کو ختم ہوگا، اس لیے سرد علاقوں کے قانون سے اصل بچت اگلے سال ہی نظر آئے گی، جبکہ بجلی سبسڈی کا خرچ فوری اثر ڈالے گا۔

حکومتی حکمت عملی میں تبدیلی

یہ معاہدہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اقتصادی وزیر لوئیس کاپوٹو نے خود کو سیاسی مذاکرات میں شامل کیا ہے، جو ان کی پچھلی حکمت عملی سے مختلف ہے۔ کاپوٹو اور سینٹیلی کی جوڑی اب گورنروں کے ساتھ بات چیت کا اہم ذریعہ بن گئی ہے۔ اس اجلاس سے قبل شمالی گورنروں نے گزشتہ ہفتے میسیونس میں ملاقات کر کے اپنے مطالبات پیش کیے تھے۔

یہ معاہدہ دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک اشارہ ہے کہ حکومت ووٹوں کے بدلے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سرد علاقوں کا قانون سینیٹ میں منظور ہوتا ہے یا نہیں، خاص طور پر حالیہ ناکامیوں کے بعد جب حکومت کو نجی املاک کی خلاف ورزی کے قانون سے تین ابواب واپس لینے پڑے تھے۔

ذرائع: Infobae، سرکاری بیانات