ایک متنازع قانونی اصلاحات کا آغاز
ارجنٹائن کی سینیٹ نے بدھ 19 اگست 2026 کو کمپنیوں کے قانون (Ley General de Sociedades, Law 19,550) میں جامع اصلاحات کے مسودے پر بحث کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ یہ قانون 1972 سے نافذ ہے۔ اس اقدام کو ڈی ریگولیشن کے وزیر فیڈریکو سٹورزینیگر نے آگے بڑھایا ہے، جو موجودہ قانون کو ختم کرکے ایک جدید نظام متعارف کرانے کی تجویز رکھتا ہے جس میں مصنوعی ذہانت، خودکار کمپنیاں اور وکندریقرت خود مختار تنظیمیں (DAO) شامل ہیں۔
یہ اجلاس قانون سازی کی عمومی کمیٹی میں منعقد ہوا، جس کی صدارت سینیٹر نادیہ مارکیز (لا لبرٹاد ایوانزا) نے کی۔ اجلاس میں 14 ماہرین نے شرکت کی اور مجوزہ اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس کے اختتام پر اگلے ہفتے تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ماہرین کے آخری گروپ کی رائے لی جا سکے۔
حمایت: جدید کاری اور اخراجات میں کمی
وکیل اور بزنس لاء میں ماسٹرز کارلوس مولینا سینڈووال نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسودہ "چار ستونوں پر مبنی ہے: لچک، خود مختاری، جدید کاری اور قانونی تحفظ"۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ اقدامات "کمپنیوں کے تنازعات کو تیزی سے حل کرنے اور لین دین کے اخراجات کم کرنے میں مدد دیں گے"۔
اسی طرح، نیشنل یونیورسٹی آف ساؤتھ میں قانون کے پروفیسر ڈیاگو ڈوپریٹ نے بھی کمپنیوں کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو سراہا اور کہا کہ یہ مسودہ "ایک جدید اور متوازن تصور" پیش کرتا ہے جو کمپنیوں کی خود مختاری کو بڑھاتا ہے۔
مخالفت: صوبائی اختیارات پر تشویش
تاہم، تمام آراء موافق نہیں تھیں۔ لا پامپا کے رجسٹری آف پرسنز اینڈ کامرس کے ڈائریکٹر گیلرمو روبانو نے خبردار کیا کہ یہ تجویز صوبائی اختیارات پر تجاوز کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، "ایک قومی قانون جو کمپنیوں کے بارے میں ہمیں بتائے کہ ہم اپنے رجسٹروں کو کیسے منظم کریں... انہیں پہلے مشورہ کرنا چاہیے تھا"۔ انہوں نے یاد دلایا کہ صوبائی رجسٹریاں 2017 سے ہی ڈیجیٹلائزیشن اور سادگی کے عمل میں مصروف ہیں۔
اسی طرح، لا ریوخا کے انسپکٹر جنرل آف جسٹس جیکب ساؤل نے کہا کہ "کمپنیوں کے قانون کی جدید کاری یا ڈیجیٹلائزیشن کی مخالفت نہیں ہے"، لیکن انہوں نے اس بنیاد پر صوبائی اختیارات پر تجاوز کو مسترد کیا۔
وکیل پیٹریسیا فرنانڈیز آندرانی، جو نیشنل یونیورسٹی آف کوماہو میں پروفیسر ہیں، نے تنقید کی کہ اس مسودے میں بڑی کمپنیوں کے لیے ESG (ماحولیاتی، سماجی اور گورننس) ذمہ داریاں شامل نہیں ہیں۔ دوسری طرف، یونیورسٹی آف بیونس آئرس میں کمرشل لاء کے پروفیسر ایڈورڈو فاویئر ڈوبوئس نے واضح کہا: "اس مسودے کو سینیٹ کو مسترد کر دینا چاہیے"، اور موجودہ قانون میں ترمیم کی تجویز دی۔
مسودے کے اہم نکات
| شعبہ | تفصیل |
|---|---|
| خودکار کمپنیاں | ایک نئی قسم کی کمپنی جو الگورتھم یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلتی ہے اور اسے عام کاموں کے لیے ملازمین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ |
| DAO | وکندریقرت خود مختار تنظیمیں جو ٹوکن اور بلاک چین ٹیکنالوجی پر چلتی ہیں۔ |
| ثالثی | کمپنیوں کے قوانین میں ثالثی کی شقیں شامل کی جا سکیں گی اور تنازعات کو غیر ملکی یا بین الاقوامی تجارتی قانون کے تحت حل کیا جا سکے گا۔ |
| ڈیجیٹلائزیشن | الیکٹرانک پتہ، ڈیجیٹل ریکارڈ، دور سے اجلاس، ڈیجیٹل دستخط اور عوامی ڈیجیٹل فائل۔ |
| حصص | حصص کی ادائیگی کے طریقوں میں توسیع: جائیداد، حقوق، قرضے، ڈیجیٹل اثاثے اور قابل قدر خدمات۔ |
| کم ریاستی نگرانی | قانون کی دفعات صرف تکمیلی ہوں گی؛ کمپنی کا چارٹر زیادہ اہم ہوگا۔ رجسٹریاں قانون کی اجازت سے زیادہ پابندیاں نہیں لگا سکیں گی۔ |
کوئی حتمی فیصلہ نہیں، سپر RIGI زیر بحث
بحث کے باوجود، حکومتی اتحاد کوئی حتمی فیصلہ حاصل نہیں کر سکا۔ پارلیمانی ذرائع نے Infobae کو بتایا کہ "کچھ حکومتی ارکان نے فوری فیصلے کا اشارہ دیا... لیکن میں دستخط نہیں کروں گا"۔ اس عدم اتفاق کی وجہ سے مسودہ ایوان میں پیش نہیں کیا جا سکا۔
دوپہر میں، بجٹ، قومی معیشت اور قانون سازی کی کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں سپر RIGI پر بحث کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا، جس میں سیکرٹری خزانہ کارلوس گوبرمین نے شرکت کی۔ یہ نظام "مستقبل کی صنعتوں" میں کم از کم 1 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
کمپنیوں کے قانون میں اصلاحات سٹورزینیگر کی انتظامیہ کے اہم اقدامات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے جون میں سینیٹ میں اس مسودے کا دفاع کرتے ہوئے پیداواری عمل میں مصنوعی ذہانت اور الگورتھم کے استعمال پر زور دیا تھا۔ بحث اگلے ہفتے نئے ماہرین کے ساتھ جاری رہے گی۔
ذرائع: Parlamentario · Infobae · La Prensa · Crónica