ایک ٹویٹ جس نے پرانی بحث کو زندہ کر دیا
21 اگست 2026 کی رات 9:35 پر، صدارتی دفتر کے سرکاری اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ جاری ہوئی جس میں صدر خاویوی میلی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران سننے والی پیشگوئیوں کا حوالہ دیا۔ "میں مہم کی تمام پیشگوئیوں کا ذکر نہیں کروں گا، جیسے یونیورسٹیاں بند کرنا، ہسپتال بند کرنا، گاراہان کو بند کرنا"۔
اس کے بعد انہوں نے موازنہ پیش کیا: آج وہی گاراہان ہسپتال دنیا کے جدید ترین ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ یونیورسٹیاں اور صحت کا نظام نارمل ہے۔ سرکاری پیغام میں کہا گیا کہ یہ پیشگوئیاں نہ صرف پوری نہیں ہوئیں، بلکہ حقیقت نے ان سب کو غلط ثابت کیا۔
گاراہان ہسپتال: بچوں کے علاج کا عالمی مرکز
ارجنٹائن کا گاراہان ہسپتال (جسے پیڈیاٹرک گاراہان بھی کہتے ہیں) لاطینی امریکہ کا سب سے بڑا سرکاری بچوں کا ہسپتال ہے۔ 1987 سے کام کر رہا ہے۔ انتخابات کے دوران، خوف پھیلایا گیا کہ اگر خاویر میلی اقتدار میں آیا تو اسے بند کر دیا جائے گا۔ مگر نہ صرف یہ بند ہوا، بلکہ اس نے جدید ٹیکنالوجی، پیچیدہ سرجری اور بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ یہ حقیقت انتخابی تشویشوں کو جھٹلاتی ہے۔
میں مہم کی تمام بارے میں نہیں کہوں گا، پیک جیسے یونیورسٹیاں بند ہوتیں، ہسپتال بند ہوتے، گاراہان بند ہوتا...
یونیورسٹیاں اور صحت عامہ کی حفاظت
یہی پیشگوئی ان سرکاری یونیورسٹیوں کے لیے بھی کی گئی تھی، جن کے بجٹ کم کیے جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ابھی تک یہ بندش یا بڑا کٹ نہیں ہوا، اور یونیورسٹیاں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ صدارتی ذریعہ کے مطابق، یہ نتیجہ ہے کہ انتخابی مہم میں پھیلایا گیا خوف بے بنیاد تھا۔
ٹویٹ کا وقت اور ردعمل
رات 9:35 کا ٹویٹ کرنا کوئی اتفاق نہیں، لوگوں نے سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل دیے۔ کچھ نے سراہا، کچھ نے اسے سیلی داستان قرار دیا۔ صدارتی اکاؤنٹ نے کوئی نیی ڈیٹا یا تحقیقات پیش نہیں، بلکہ اسی حقیقت پر روشنی ڈال کہ خوفناک پیشگوئی کرنے والے اب غلط ثابت ہو چکے ہیں۔
گاراہان ہسپتال آج بھی بچوں کی خدمت میں مصروف ہے، اور اس کا نارمل آپریشن یہ ثابت کرتا ہے کہ حقائق انتخابات مہم کی خوش نما وعدوں سے زیادہ اہم ہیں۔
ماخذ: صدرات کے سرکاری دفتر کا اکاؤنٹ