برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے ہاؤس آف کامنز میں اپنے پہلے بڑے خطاب میں معاشی ترقی، سیاسی اصلاحات اور قومی دفاع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک پرجوش ایجنڈا پیش کیا۔ انہوں نے Brexit کے بعد "کم ترقی کی دہائی" کو ختم کرنے اور "اگلی دہائی کو بہتر بنانے" کا وعدہ کیا، جبکہ اپوزیشن نے ان کی تجاویز پر تنقید کی۔

ہاؤس آف کامنز میں تاریخی خطاب

برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے منگل 1 ستمبر 2026 کو ہاؤس آف کامنز میں اپنے عہدے سنبھالنے کے چھ ہفتوں بعد اپنا پہلا بڑا خطاب دیا۔ یہ خطاب تین گھنٹے سے زیادہ جاری رہا اور اس میں سوال و جواب کا وسیع سیشن بھی شامل تھا۔ خطاب میں معیشت سے لے کر خارجہ پالیسی تک کے موضوعات پر روشنی ڈالی گئی۔

برنہم، جو لیبر پارٹی کی قیادت کرتے ہیں، نے کہا کہ Brexit نے برطانیہ کو "کم ترقی کی دہائی" میں ڈال دیا ہے اور انہوں نے "پہلے مقام، پارٹی نہیں" کے نقطہ نظر سے معیشت کو فروغ دینے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا، "ہم مثبتیت کو کھولنا چاہتے ہیں اور اگلی دہائی کو پچھلی دہائی سے بہتر بنانا چاہتے ہیں۔"

سیاسی اور انتخابی اصلاحات

خطاب کی سب سے نمایاں باتوں میں سے ایک سیاسی اصلاحات کا اعلان تھا، جس میں ووٹنگ سسٹم کا جائزہ لینا بھی شامل ہے۔ برنہم نے کہا کہ وہ انتخابی بل کو مضبوط بنانے کے لیے سیاسی عطیات پر حد لگانے کے بارے میں "کھلے ذہن" رکھتے ہیں، جو برطانوی سیاست میں گرما گرم بحث کا موضوع رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کے شعبے میں، انہوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں کی غیر رضامندی والے واضح مواد کو تیزی سے ہٹانے کی حمایت کا اظہار کیا، جس کا مقصد صارفین اور خاص طور پر کمزور افراد کا تحفظ ہے۔

دفاع اور خارجہ پالیسی

بین الاقوامی سطح پر، برنہم نے کہا کہ برطانیہ کا دفاع "یوکرین سے شروع ہوتا ہے"، اور یورپی سلامتی کے ساتھ برطانیہ کے عزم کی تصدیق کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ترکی میں COP31 موسمیاتی کانفرنس میں شرکت کریں گے، جو ان کی ایجنڈے میں موسمیاتی عمل کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے تنازع کے حوالے سے، انہوں نے مغربی کنارے میں E1 آبادکاری معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا، جو دو ریاستی حل کو ختم کر سکتا ہے۔ توانائی کے سیکرٹری ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ حکومت غیر قانونی آبادکاریوں کی توسیع روکنے کے لیے "قدم بڑھانے" کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے۔

معیشت اور توانائی

برنہم نے کہا کہ برطانیہ کو جیواشم ایندھن اور قابل تجدید توانائی دونوں کی ضرورت ہے، یہ جواب ریفارم یو کے رہنما رچرڈ ٹائس کی تنقید پر تھا۔ یہ موقف توانائی کی منتقلی اور سپلائی کی حفاظت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔

معاشی محاذ پر، وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے اپنے پہلے ہفتے میں دو بار ٹیکس میں کمی کی، جو کنزرویٹو رہنما کیمی بیڈنوک کے حملوں کا جواب تھا، جنہوں نے ان کی ترقی کی تھیوری کو "مکمل طور پر غلط" قرار دیا۔ چانسلر آف دی ایکسیکر ڈیرن جونز نے انہیں خبردار کیا کہ صرف عوامی اخراجات میں اضافہ برطانیہ کو امیر نہیں بنا سکتا۔

انصاف اور جیلیں

برنہم نے IPP (عوامی تحفظ کے لیے قید) کی غیر معینہ سزاؤں کے مسئلے پر بھی روشنی ڈالی، جنہیں "بہت طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا"۔ سیکرٹری انصاف ایلکس نورس نے کہا کہ جیلیں لانڈری روم کو سیلوں میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے تحت کام کرتی رہیں گی، جو بھیڑ کو کم کرنے کے لیے ایک متنازع اقدام ہے۔

تعلیم اور سماجی بہبود

وزیر اعظم نے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو فوائد حاصل کرنے کے لیے تعلیمی نظام کو ذمہ دار ٹھہرایا، اور "خود مختار پیداوار اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت" کے حصے کے طور پر زراعت پر توجہ مرکوز کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے سکاٹش حکومت سے گلاسگو بس سروس کے عوامی کنٹرول کی حمایت کرنے پر بھی زور دیا۔

رد عمل اور دیگر سیاسی واقعات

ایک غیر متوقع موڑ میں، سابق وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ وہ ہولبورن اور سینٹ پینکراس کے رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دیں گے، جس سے ضمنی انتخاب ہوگا۔ اسٹارمر نے کہا کہ بین الاقوامی معاملات پر توجہ دینے کے لیے "استعفیٰ دینا درست ہے"، جبکہ کنزرویٹو نے اس فیصلے کو "ایک اور 180 ڈگری موڑ" قرار دیا۔

دوسری طرف، SNP رہنما جان سوینی نے سکاٹ لینڈ میں NHS بورڈز کی تعداد کم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا، اور اصرار کیا کہ وہ اب بھی روٹی، دودھ اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر قانونی طور پر پابند حد متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ریفارم یو کے رہنما نائجل فاراج نے کلکٹن کے ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد ہاؤس آف کامنز میں اپنی نشست سنبھالی، جبکہ کیمی بیڈنوک نے ایلکس برگرٹ کو کنزرویٹو پارٹی کا نائب رہنما مقرر کیا۔

اہم اعداد و شمار

اشارہتفصیل
خطاب کی مدت3 گھنٹے سے زیادہ
دفاعی اخراجات کا ہدف2035 تک جی ڈی پی کا 3.5%
چھوٹی کشتیوں کی کم از کم کراسنگ7 سال
طویل مدتی قرض لینے کے اخراجات کی زیادہ سے زیادہ شرح28 سال

امیگریشن کے معاملے میں، ہوم آفس نے اطلاع دی کہ موسم گرما کے مہینوں میں چھوٹی کشتیوں کی کراسنگ سات سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے، جو انگلش چینل کو عبور کرنے کی کوششوں میں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔

آخر میں، سابق لیبر رہنما جیریمی کوربن نے پوچھا کہ کیا برنہم کرایہ کنٹرول کی حمایت کریں گے، جس پر وزیر اعظم نے جواب دیا کہ "ہاؤسنگ مارکیٹ کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کا ایک پیکج" درکار ہے۔

اس خطاب کے ساتھ، برنہم اپنی قیادت کو مستحکم کرنے اور اپنی حکومت کی سمت متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ترقی اور اصلاحات کی ایک دہائی کا وعدہ کرتے ہوئے جو ان کے مطابق "اگلی دہائی کو پچھلی دہائی سے بہتر بنائے گی"۔