سیاست میں شائستگی اکثر ان لوگوں کا لبادہ ہوتی ہے جن کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ فرانس میں بائیں بازو کی ابتدائی انتخابی مہم (Primaries) اب پالیسیوں یا سماجی مسائل کے بجائے ذاتی حملوں اور توہین آمیز جملوں کی جنگ بن چکی ہے۔ سیگولین رائل اور روفیل گلوکس مین کے درمیان یہ مقابلہ اب اس بات پر ہے کہ کس کا تجربہ زیادہ ہے اور کون اقتدار کی شطرنج میں غیر اہم ہے۔

سیاسی تلخی اور لفظی جنگ

جو مقابلہ انتخابی پروگراموں پر ہونا چاہیے تھا، وہ اب ذاتی گالی گلوچ میں بدل گیا ہے۔ سیگولین رائل (Ségolène Royal) نے اپنے تکبر اور طویل تجربے کا سہارا لیتے ہوئے روفیل گلوکس مین (Raphaël Glucksmann) کو "انٹرن" (Stagiaire) قرار دے کر ان کی سیاسی حیثیت کو کم کرنے کی کوشش کی۔

اس کے جواب میں گلوکس مین نے نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ انتہائی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ رائل کو ان عہدوں پر واپس جانا چاہیے جہاں "بھیک مانگی جاتی ہے"، جو کہ رائل کے 45 سالہ سیاسی کیریئر پر ایک گہرا طنز تھا۔

تجزیہ: اس جھگڑے کا مطلب کیا ہے؟

رائل کی حکمت عملی "سٹیٹس" یا رتبے کی جنگ ہے۔ انہیں "انٹرن" کہہ کر وہ گلوکس مین کو ایک عارضی ملازم کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہیں جس کے پاس کوئی تجربہ نہیں۔ تاہم، گلوکس مین کا جواب زیادہ مہلک تھا؛ انہوں نے رائل کے تجربے کو "کامیابی" کے بجائے "قدامت" (Obsolescence) قرار دیا، یعنی ایک ایسا تجربہ جو اب بے معنی ہو چکا ہے اور صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے بھیک مانگ رہا ہے۔

اصل تنازع

یہ لڑائی نظریات کی نہیں بلکہ انا کی جنگ ہے۔ رائل پرانی نسل کے سیاسی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں، جبکہ گلوکس مین ایک ایسی نئی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں جو فرانس کے بائیں بازو کے روایتی سیاسی ڈھانچے کی مرہونِ منت نہیں ہے۔

مستقبل کے اثرات

جب امیدوار ملک کے مسائل کے بجائے ایک دوسرے کو "انٹرن" یا "بھکاری" کہنا شروع کر دیتے ہیں، تو عام ووٹر یہ محسوس کرتا ہے کہ قیادت ملک سے زیادہ اپنی ذات میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ اندرونی خانہ جنگی صرف ان مخالفین کو فائدہ پہنچاتی ہے جو باہر بیٹھ کر اس نظام کے گرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

تاریخ: 21 ستمبر 2026 ماخذ: Le Monde