ایک غیر متوقع اتحاد: میڈیا کی خاموشی
امریکی سیاست میں اس وقت ایک عجیب صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ سی این این (CNN)، پولیٹیکو (Politico) اور ایم ایس ناؤ (MS NOW) نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اپنی پریس کریڈنشلز (صحافتی اجازت ناموں) کی منسوخی کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ لیکن اصل حیرت تب ہوئی جب فاکس نیوز اور چار دیگر بڑے نیٹ ورکس نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے دوروں کی کوریج کرنے سے انکار کر دیا۔
سادہ الفاظ میں وضاحت: پریس پول (Press Pool) سے کیا مراد ہے؟ یہ منتخب صحافیوں کا ایک گروپ ہوتا ہے جو صدر کے ساتھ ہر جگہ سفر کرتا ہے تاکہ پوری دنیا کو براہ راست خبریں دے سکے۔ جب فاکس نیوز جیسے اتحادی بھی اس گروپ سے باہر نکل جائیں، تو اس کا مطلب ہے کہ صدر اب اپنی بات عوام تک پہنچانے کے لیے میڈیا کے اس طاقتور ہتھیار سے محروم ہو چکے ہیں۔
تنازع کی جڑ کیا ہے؟
رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی ساتھی سٹیون چیونگ، شان کرن اور سوزی وائلز پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی آئین کی پہلی اور پانچویں ترمیم (First and Fifth Amendment) کی خلاف ورزی کی ہے۔
وضاحت: پہلی ترمیم امریکہ میں 'اظهار رائے کی آزادی' (Freedom of Speech) کی ضمانت دیتی ہے، جس کی خلاف ورزی پر میڈیا سخت ردعمل کا اظہار کر رہا ہے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
اگر یہ بائیکاٹ جاری رہا تو ٹرمپ اپنی سب سے بڑی طاقت یعنی 'اپنی مرضی کی خبریں پھیلانے' کی صلاحیت کھو سکتے ہیں۔ اگرچہ عدالت فیصلہ کرے گی کہ صحافیوں کو دوبارہ رسائی ملنی چاہیے یا نہیں، لیکن فاکس نیوز کے ساتھ تعلقات میں یہ دراڑ ایک نئی سیاسی جنگ کا آغاز ہو سکتی ہے۔