Moderna اور Merck کی ذاتی mRNA ویکسین، جو intismeran autogene کہلاتی ہے، نے میلانوما کے فیز 3 کلینکل ٹرائل میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ امتزاج Keytruda کے ساتھ ملا کر جلد کے مہلک ترین کینسر کی دوبارہ نشوونما کو روکتا ہے۔ اس اعلان کے بعد Moderna کے حصص میں 156% تک اضافہ ہوا اور اسٹاک کی قیمت 134 ڈالر تک جا پہنچی۔

حالیہ دنوں میں Moderna اور اس کے حصص دار Merck نے 19 اگست 2026 کو کینسر کے علاج کے حوالے سے ایک تاریخ ساز پیش رفت کا اعلان کیا۔ ان کی ذاتی ایمنیوزا ویکسین، جو intismeran autogene کہلاتی ہے، نے melanoma (پہلے ٹیسٹ کی طرح ایک انتہائی مہلک جلد کا کینسر) کے لیے فیز 3 کلینیکل ٹرائل کے تمام مرکزی مقاصد کو حاصل کر لیا۔ اس نئے ٹریٹمنٹ کا مقصد جلد کے کینسر کے بعد دوبارہ ابھرنے والے خلیات کو پہچان کر ختم کرنا ہے۔

ذاتی mRNA ویکسین کا طریقہ کار

یہ ویکسین عام ویکسین کی طرح نہیں ہے، بلکہ یہ ہر مریض کے لئے علیحدہ طور پر بنائی جاتی ہے۔ اس کی تیاری کے لئے مریض کے ٹیومر سے ٹشو لے جا کر اس کے اندر موجود mutations کا تجزیہ کیا جاتا ہے، پھر اس خصوصی muttions کے مطابق ایک mRNA ویکسین بنائی جاتی ہے جو مدافعتی نظام کو سکھاتی ہے کہ وہ ان کینسر خلیات کو پہچانے اور اگر وہ واپس آئیں تو انہیں ختم کرے۔ اسے Keytruda (pembrolizumab) کے ساتھ ملایا جاتا ہے، جو پہلے سے ہی کینسر کی اہم امیونو تھراپی میں استعمال ہوتی ہے۔

وہ کلائنیکی ٹرائل جو سب کچھ بدل دے گا

فیز 3 کا یہ ٹرائل، جو منشیات کی حتمی منظوری سے پہلے کا آخری مرحلہ ہے، میں 1,137 مریض جو کینسر کے مرحلہ IIB سے IV تک پہنچ چکے تھے اور جن کی سرجری ہو چکی تھی، شریک ہوئے۔ مریضوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا: ایک گروہ صرف Keytruda حاصل کیا، جبکہ دوسرے کو Keytruda اور ذاتی ویکسین دونوں دی گئیں۔ نتائج کے مطابق اس ٹرائل نے کینسر کی دوبارہ پیشی (recurrence) اور پھیلاؤ (metastasis) کو روکنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ٹرائل میں کوئی نئے خطرات کی پر بھی وضاحت نہیں آئی۔

نتائج کے اہم عناصر
  • فیز 3 میں 1,137 مریض شامل
  • فیز 2 کے اعداد: دوبارہ پیشی یا موت میں 49% کمی
  • میسٹیساس کا خطرہ 59% کم
مارکیٹ کا ردعمل
  • Moderna شیئرز میں 156% تک اضافہ (قیمت USD 134)
  • Merck کے شیئرز میں 7.5% اضافہ
  • 2035 تک کی انکم پیش گوئی: USD 3 بلین

سائنس اور ریگولیشن کے لئے کامیابی

یہ نتیجہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ FDA (امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن) پہلی بار کسی mRNA پر مبنی آنکالوجی علاج کے استعمال کی اجازت دے سکتی ہے۔ طبی اعتبار سے یہ ایک نیا رخ ہے، جس سے دوسرے اقسام کے اخلاف بھی لیبوں میں مدد ملے گی۔ کمپنیوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ نتائج ایک آنے والے طبی اجلاس میں پیش کریں گے اور ریگولیٹری اداروں کو مکمل ڈیٹا شیئر کریں گے۔

آسٹریلیائی میلانوما انسٹی ٹیوٹ کی چیف میڈیکل آفیسر پروفیسر جورگینا لونگ نے اسے "میلانوما کے علاج کے لئے ایک سنگ میل" قرار دیا، جو بطورِ اضافی Treatment نہ صرف مقبول ہے بل کہ مرینہ سے پرہیز موثریت ثابت ہوئی ہے۔

ایک امید کا دور

Moderna کے CEO Stéphane Bancel نے اس کامیابی پر کہا: "گزشتہ سالوں میں کسی فرد کے کینسر کے لئے خاص بنائی گئی ایک RNA ویکسین کا تصور سمجھنا مشکل تھا۔ آج ہم اس وژن کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔"

اس کے علاوہ ارجنٹائن میں بھی ایک امید بھری خبر ہے: Laboratorio Pablo Cassará کی تیار کردہ قومی ویکسین Vaccimel نومبر 2025 سے میلانوما کے ابتدائی مرحلوں (IIB, IIC, IIIA) میں استعمال ہو رہی ہے۔

اب بڑا چیلنج قیمت مقرر کرنا اور صحت کے نظام میں اس کی رسائی کو یقینی بنانا ہے، جو کینسر کی اضافی لاگت کے حوالہ سے کھلی بحث کا موقع ہے۔

فونٹس: Reuters, CNN Español, Infobae, El País, La Nación

متعلقہ