دماغی لچک اور ہارمونز کا جادو
جدید سائنس ہمیں بتا رہی ہے کہ ہمارا دماغ زندگی بھر بدلتا رہتا ہے، اور یہ تبدیلی ہمیں بہتر بنانے کے لیے ہوتی ہے۔
جریدہ Nature Communications میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق، جس میں Amsterdam University Medical Center، Leiden University اور Erasmus University Rotterdam کے ماہرین شامل تھے، یہ بتاتی ہے کہ بلوغت، حمل اور مینوپاز کے دوران دماغ کی تشکیل مختلف طریقے سے ہوتی ہے۔
بلوغت اور حمل: 'گرے میٹر' میں کمی
تحقیق کے مطابق، 1,095 افراد کے MRI اسکینز سے پتہ چلا کہ بلوغت اور حمل کے دوران گرے میٹر (Grey Matter) کی مقدار میں تیزی سے کمی آتی ہے۔
گرے میٹر کیا ہے؟ یہ دماغ کا وہ حصہ ہے جہاں معلومات پر کارروائی ہوتی ہے اور یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
- بلوغت: اس مرحلے پر دماغ کے کورٹیکس کے وسیع حصوں میں کمی دیکھی گئی۔
- حمل: یہاں کمی مخصوص حصوں (پیرائیٹل اور ٹیمپورل) میں ہوئی، جو شاید ماں بننے کے لیے دماغ کی ایک 'تہذیبی ترتیب' (Adaptive Adjustment) ہے۔
مینوپاز: ایک حیرت انگیز وقفہ
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ عمر کے ساتھ دماغ سکڑتا ہے، لیکن اس تحقیق نے ایک خوشگوار بات بتائی: مینوپاز (وہ وقت جب خواتین میں ماہانہ ایام ختم ہو جاتے ہیں) کے دوران گرے میٹر کی کمی میں ایک 'وقفہ' یا سست روی دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل دماغ کو بڑھاپے کے اثرات سے عارضی طور پر بچانے یا اسے متوازن کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔
دماغی دھند (Brain Fog) اور ایسٹروجن
دوسری جانب، University of Delaware کی ایک تحقیق (شائع شدہ Brain Communications میں) نے بتایا کہ ایسٹروجن (خواتین کا اہم ہارمون) کی کمی سے دماغ کے ہپوکیمپس (Hippocampus) میں ایک 'مکینیکل بلاک' پیدا ہو سکتا ہے۔
ہپوکیمپس وہ حصہ ہے جو سیکھنے اور یادداشت کے لیے ذمہ دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مینوپاز کے دوران بہت سی خواتین 'دماغی دھند' (Brain Fog) محسوس کرتی ہیں، جہاں چیزیں یاد کرنا یا توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
مثبت پہلو: یہ تمام تبدیلیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمارا دماغ انتہائی لچکدار ہے اور زندگی کے ہر نئے مرحلے کے لیے خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے!
ذرائع: Nature Communications | Brain Communications | Infobae