سائنسدانوں نے انسانی دماغ کے ایک اہم حصے کا سب سے بڑا جینیاتی نقشہ تیار کر لیا ہے، جس میں 6 ملین سے زیادہ خلیات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہ انقلابی پیش رفت ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ دماغ کی قدرتی بڑھاپے کی تبدیلیوں اور بیماریوں کے درمیان کیا فرق ہے، جس سے مستقبل میں الزائمر اور پارکنسن جیسی بیماریوں کے علاج کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

دماغی صحت میں ایک تاریخی سنگ میل: DLPFC اٹلس

امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کے تعاون سے 'PsychAD' کنسورشیم کے محققین نے انسانی دماغ کے اس حصے کا نقشہ تیار کیا ہے جسے ڈورزولایٹرل پری فرنٹل کورٹیکس (DLPFC) کہا جاتا ہے۔ یہ حصہ ہماری سوچنے کی صلاحیت اور فیصلے کرنے کے عمل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اہم ڈیٹا تفصیلات
عطیہ کرنے والوں کی تعداد تقریباً 1,500 افراد
عمر کی حد بچپن سے لے کر 108 سال تک
تجزیہ شدہ خلیات 6.3 ملین نیوکلیائی (Cell Nuclei)
ٹیکنالوجی singe-nucleus RNA sequencing (snRNA-seq)

پس منظر: اعصابی تنزلی کیا ہے؟

عام طور پر یہ سمجھنا مشکل ہوتا تھا کہ دماغ کا قدرتی بڑھاپا اور بیماری (Neurodegeneration) کہاں الگ ہوتے ہیں۔ الزائمر (Alzheimer) اور پارکنسن (Parkinson) جیسی بیماریاں یادداشت اور جسمانی توازن کو متاثر کرتی ہیں، لیکن اب تک ہمارے پاس ایسا تفصیلی نقشہ نہیں تھا جو یہ بتا سکے کہ کون سے خلیات سب سے پہلے ناکام ہوتے ہیں۔

زندگی کے تین اہم مراحل

اس تحقیق کے مطابق انسانی دماغ تین بڑے مراحل سے گزرتا ہے:

  • بچپن اور جوانی: دماغ کی تیز رفتار تبدیلی اور تشکیل کا دور۔
  • استحکام: 24 سال کی عمر سے شروع ہونے والا ایک مستحکم دور۔
  • دوسری تبدیلی: 65 سال کی عمر کے بعد، جہاں دماغی خلیات (Glial cells) کی سرگرمی میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں۔

بیماریوں کا انکشاف اور جینیاتی نشانات

نقشے سے معلوم ہوا ہے کہ الزائمر، پارکنسن اور ویسکولر ڈیمنشیا میں کچھ مشترک جینیاتی علامات پائی جاتی ہیں، خاص طور پر خون کی نالیوں کی حیاتیات اور خلیات کے درمیان رابطے میں۔

اہم دریافت: بزرگ افراد میں، دماغ کے نیورونز کے اندر موجود "سرکاڈین کلاک" (جسمانی گھڑی جو نیند اور جاگنے کو کنٹرول کرتی ہے) اپنی ہم آہنگی کھو دیتی ہے، جبکہ دیگر خلیات تناؤ کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔

الزائمر کے معاملے میں، SST+ نامی مخصوص نیورونز کی کمزوری اور خون کی نالیوں کی خرابی کے درمیان ایک گہرا تعلق پایا گیا ہے، جسے بیٹا-ایملائیڈ (beta-amyloid) اور ٹاؤ (tau) پروٹین کی جمع ہونے سے مزید تقویت ملتی ہے۔

مستقبل کی امیدیں

اس جینیاتی نقشے کی مدد سے ایسی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو صرف متاثرہ خلیات پر اثر کریں گی، جس سے مضر اثرات (side effects) کم ہوں گے۔ یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم بیماری کے ظاہر ہونے سے بہت پہلے ہی اس کی تشخیص کر لیں اور شاید ایسے علاج دریافت ہوں جو دماغی بڑھاپے کی رفتار کو سست کر دیں۔

حوالہ: Nature / PsychAD Consortium