ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی (ASU) کی ایک ابتدائی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ ایک ہاکی کھلاڑی کی تربیت کے دوران بے ہوشی کے واقعے کے بعد کھیلوں کے پروٹوکولز کی نگرانی میں شدید خامیاں پائی گئی ہیں۔ امریکی فوج کے سابق 'گرین بیریٹس' رکن کی خدمات حاصل کرنے کے فیصلے نے ایلیٹ ٹریننگ اور جسمانی خطرات کے درمیان فرق پر بحث چھیڑ دی ہے۔

واقعہ کی تفصیلات

ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی (ASU) کی کھیلوں کی کمیونٹی اس وقت صدمے میں ہے جب گزشتہ ماہ ایک ہاکی کھلاڑی تربیتی سیشن کے دوران اچانک بے ہوش ہو گیا۔ یہ واقعہ شروع میں ایک اتفاقی حادثہ معلوم ہوتا تھا، لیکن منگل کو جاری ہونے والی ایک ابتدائی رپورٹ کے بعد یہ ایک ادارہ جاتی اسکینڈل میں تبدیل ہو گیا ہے۔

سخت فوجی طریقہ کار

اس تربیت کو کسی روایتی فٹنس کوچ نے نہیں، بلکہ گرین بیریٹس (Green Berets) کے ایک سابق رکن نے ڈیزائن کیا تھا۔

وضاحت: گرین بیریٹس امریکی فوج کی ایک انتہائی خصوصی فورس (Special Forces) ہے جو اپنی سخت ترین جسمانی اور ذہنی تربیت کے لیے جانی جاتی ہے۔
یونیورسٹی میں اس طریقہ کار کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ وہاں طلباء پر فوجی نظم و ضبط اور شدید جسمانی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی، جہاں عام طور پر صحت کے قوانین بہت سخت ہوتے ہیں۔

نگرانی کی ناکامی

رپورٹ کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یونیورسٹی نے اس تربیتی منصوبے کی نہ تو نگرانی کی اور نہ ہی اس کی تصدیق کی۔ طبی ماہرین یا تکنیکی ماہرین کی عدم موجودگی کی وجہ سے کھلاڑی کو اس کی جسمانی صلاحیت سے زیادہ مشقت کرنی پڑی، جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہو گیا۔

مستقبل کے اثرات اور پیشگوئی

رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ ASU کے خلاف غفلت کے قانونی مقدمات کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ متوقع ہے کہ یونیورسٹی بیرونی کوچز کی بھرتی کے معاہدوں پر نظرِ ثانی کرے گی اور ممکنہ طور پر ایک لازمی طبی تصدیقی نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی بھی کھلاڑی کی صحت کو خطرہ نہ ہو اور فوجی طریقے طبی نگرانی کے بغیر استعمال نہ کیے جائیں۔