نظریاتی تبدیلی: ایک نیا موڑ
رپورٹس کے مطابق، تنظیم نے اپنی حالیہ کمیونیکیشن '2026 Governing body update #6' کے ذریعے اپنے موقف میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ ترجمان پال گلیز (Paul Gillies) نے تصدیق کی ہے کہ اب ارکان انفرادی طور پر یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا وہ سرخ خلیات (Red blood cells)، سفید خلیات، پلازما اور پلیٹلیٹس کو قبول کریں یا عطیہ کریں۔
اہم وضاحت: جیہووا کے گواہ ایک مسیحی گروہ ہیں جو اپنی سخت مذہبی تعلیمات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اب تک وہ خون لینے کو گناہ سمجھتے تھے، لیکن اب صرف 'مکمل خون' (Whole Blood) کی ممانعت برقرار ہے، جبکہ اس کے اجزاء (components) کی اجازت دے دی گئی ہے۔
یہ اقدام، جو کہ بائبل کی کتاب 'گلتیوں' (Galatians) کی نئی تشریحات اور جدید طب کی پیشرفت پر مبنی ہے، دنیا کے 200 ممالک میں پھیلے تقریباً 9 ملین (90 لاکھ) پیروکاروں پر اثر انداز ہوگا، جس سے انہیں اپنی زندگی بچانے کے لیے طبی خود مختاری ملے گی۔
پس منظر: عقیدے کی بھاری قیمت
کئی دہائیوں تک، خون کی منتقلی پر مکمل پابندی اس مذہب کا مرکزی ستون رہی ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ہسپتالوں میں طبی اخلاقیات اور خاندانوں کے درمیان شدید تناؤ رہا ہے۔
اطالوی اخبار La Stampa میں شائع ہونے والی لورا (Laura) کی دردناک کہانی اس المیے کی عکاسی کرتی ہے۔ لورا نے اپنے والدین کو صرف اس لیے کھو دیا کیونکہ انہوں نے زندگی بچانے والے خون کے انجکشن سے انکار کر دیا تھا۔ اس صدمے کے بعد لورا نے اس کمیونٹی سے بغاوت کی اور وہاں سے بھاگ گئی، یہاں تک کہ اسے ٹرانسپورٹ اسٹیشنوں پر سونے پر مجبور ہونا پڑا۔
سماجی اثرات
انفرادی فیصلے کی طرف یہ منتقلی تنظیم کے سخت hierarchical ڈھانچے میں ایک دراڑ کی علامت ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اقدام بہت دیر سے کیا گیا ہے، جبکہ کچھ اسے 21ویں صدی کے سائنسی دباؤ کے سامنے ایک ضروری مطابقت قرار دے رہے ہیں۔
طبی فائدہ
خون کے اجزاء (fractions) کے استعمال کی اجازت سے پیچیدہ سرجریوں اور زچگی کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں میں اموات کی شرح میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔
مستقبل کی پیش گوئی: آگے کیا ہوگا؟
یہ کھلا پن اس بات کا سبب بن سکتا ہے کہ مزید پیروکار گروپ کے دیگر سخت قوانین پر سوال اٹھائیں۔ یہ امکان ہے کہ سابق ارکان کی تعداد میں اضافہ ہو جو اب اپنی آواز بلند کریں گے۔ ساتھ ہی، شاید اب جیہووا کے گواہوں کے لیے ہسپتالوں کے معیاری پروٹوکولز میں شامل ہونا آسان ہو جائے گا، جس سے ہنگامی حالات میں ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان قانونی تنازعات کم ہو سکتے ہیں۔